حدیث ۱: حدیث میں ہے جس کو، ابن عدی نے کامل میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب نماز پڑھو، تہبند باندھ لو اور چادر اوڑھ لو اور یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔'' (2) اور
حدیث ۲: ابو داود وترمذی وحاکم وابن خزیمہ ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔'' (3)
حدیث ۳: ابو داود نے روایت کی کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، کیا بغیر ازار پہنے، کُرتے اور دوپٹے میں عورت نماز پڑھ سکتی ہے؟ ارشاد فرمایا: ''جب کُرتا پورا ہو کہ پشت قدم کو چھپالے۔'' (4) اور
حدیث ۴: دارقطنی بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدّہ راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ناف کے نیچے سے گھٹنے تک عورت ہے۔'' (5) اور
حدیث ۵: ترمذی نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''عورت، عورت ہے يعنی چھپانے کی چیز ہے، جب نکلتی ہے، شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے۔'' (6)
مسئلہ ۱۵: ستر عورت ہر حال میں واجب ہے، خواہ نماز میں ہو یا نہیں، تنہا ہو یا کسی کے سامنے، بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں توستر بالاجماع فرض ہے۔ یہاں تک کہ اگر اندھیرے مکان میں نماز پڑھی، اگرچہ وہاں کوئی نہ ہو اور اس کے پاس اتنا پاک کپڑا موجود ہے کہ ستر کا کام دے اور ننگے پڑھی، بالاجماع نہ ہوگی۔ مگر عورت کے ليے خلوت میں جب کہ نماز میں نہ ہو، تو سارا بدن چھپانا واجب نہیں، بلکہ صرف ناف سے گھٹنے تک اور