Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
478 - 651
ضرورت یہ بھی مکروہ۔ (1) (ردالمحتار)
    مسئلہ ۱۱: سجدہ میں ہاتھ یا گھٹنا، نجس جگہ ہونے سے صحیح مذہب میں نماز نہ ہوگی ۔ (2) (ردالمحتار) اور اگر ہاتھ نجس جگہ ہو اور ہاتھ پر سجدہ کیا ،تو بالاجماع نماز نہ ہوگی۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۲: آستين کے نیچے نجاست ہے اور اسی آستین پر سجدہ کیا، نماز نہ ہوگی۔ (4) (رد المحتار) اگرچہ نجاست ہاتھ کے نیچے نہ ہو بلکہ چوڑی آستین کے خالی حصے کے نیچے ہو، یعنی آستین فاصل نہ سمجھی جائے گی، اگرچہ دبیز (5) ہو کہ اس کے بدن کی تابع ہے، بخلاف اور دبیز کپڑے کے کہ نجس جگہ بچھا کر پڑھی اور اس کی رنگت یا بُو محسوس نہ ہو، تو نماز ہو جائے گی کہ یہ کپڑا نجاست و مصلّی میں فاصل ہو جائے گا کہ بدن مصلّی کا تابع نہیں، یوہیں اگر چوڑی آستین کا خالی حصہ سجدہ کرنے میں نجاست کی جگہ پڑے اور وہاں نہ ہاتھ ہو، نہ پیشانی، تو نماز ہو جائے گی اگرچہ آستین باریک ہو کہ اب اس نجاست کو بدن مصلّی سے کوئی تعلق نہیں۔ (رضا) 

    مسئلہ ۱۳: اگر سجدہ کرنے میں دامن وغیرہ نجس زمین پر پڑتے ہوں، تو مضر نہیں۔ (6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۴: اگر نجس جگہ پر اتنا باریک کپڑا بچھا کر نماز پڑھی، جو ستر کے کام میں نہیں آسکتا، یعنی اس کے نیچے کی چیز جھلکتی ہو، نما زنہ ہوئی اور اگر شیشہ پر نماز پڑھی اور اس کے نیچے نجاست ہے، اگرچہ نمایاں ہو، نماز ہوگئی۔ (7) (ردالمحتار)
 ( خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) (8)
ہر نماز کے وقت کپڑے پہنو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲. 

5۔۔۔۔۔۔ یعنی موٹی۔ 

6 ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۲. 

7۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۲. 

و باب مایفسد الصلاۃ، وما یکرہ فیہا، مطلب في التشبہ باھل الکتاب، ص۴۶۷. 

8۔۔۔۔۔۔ پ۸، الاعراف: ۳۱.
دوسری شرط ستر عورت:
 یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے، اس کو چھپانا۔ 

    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
Flag Counter