Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
475 - 651
پابند جماعت ہیں آجائیں، مگر اتنا انتظار نہ کیا جائے کہ وقت کراہت آجائے۔ (1) (درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۷۰: جن نمازوں سے پیشتر سنت یا نفل ہے، ان میں اَولیٰ یہ ہے کہ مؤذن بعداَذان، سنن و نوافل پڑھے، ورنہ بیٹھا رہے۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷۱: رئیس محلہ کا اس کی ریاست کے سبب انتظار مکروہ ہے، ہاں اگر وہ شریر ہے اور وقت میں گنجائش ہے، تو انتظار کر سکتے ہیں۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۷۲: متقدمین نے اَذان پر اجرت لینے کو حرام بتایا، مگر متأخرین نے جب لوگوں میں سستی دیکھی، تو اجازت دی اور اب اسی پر فتویٰ ہے، مگر اَذان کہنے پر احادیث میں جو ثواب ارشاد ہوئے، وہ انھیں کے ليے ہیں جو اجرت نہیں لیتے۔ خالصاً ﷲ عزوجل اس خدمت کو انجام دیتے ہیں، ہاں اگر لوگ بطورِ خود مؤذن کو صاحب حاجت سمجھ کر دے دیں، تو یہ بالاتفاق جائز بلکہ بہتر ہے اور یہ اُجرت نہیں۔ (4) (غنیہ) جب کہ
المعھود کالمشروط
کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ (رضا)
نماز کی شرطوں کا بیان
    تنبیہ: اس باب میں جہاں یہ حکم دیا گیا کہ نماز صحیح ہے یا ہو جائے گی یا جائز ہے، اس سے مراد فرض ادا ہونا ہے، یہ مطلب نہیں کہ بلا کراہت و مما نعت و گناہ صحیح و جائز ہوگی، اکثر جگہیں ایسی ہیں کہ مکروہ تحریمی و ترک واجب ہوگا اور کہا جائے گا کہ نماز ہوگئی کہ یہاں اس سے بحث نہیں، اس کو باب مکروہات میں انشاء اﷲ تعالیٰ بیان کیاجائے گا۔ یہاں شروط کا بیان ہے کہ بے (5) اُن کے ہوگی ہی نہیں۔ صحت نماز کی چھ شرطیں ہیں:
    (۱) طہارت۔ 

    (۲) ستر عورت۔ 

    (۳) استقبال قبلہ۔ 

    (۴) وقت۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۸۱. 

5۔۔۔۔۔۔ بغير۔
Flag Counter