Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
473 - 651
    مسئلہ ۵۶: جنب بھی اَذان کا جواب دے۔ حیض و نفاس والی عورت اور خطبہ سننے والے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے اور جو جماع میں مشغول یا قضائے حاجت میں ہو، ان پر جواب نہیں۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۵۷: جب اَذان ہو، تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اَذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں اِقامت میں۔ (2) (درمختار، عالمگیری) 

    جو اَذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے، اس پر معاذ اﷲ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔ (فتاویٰ رضویہ) 

    مسئلہ ۵۸: راستہ چل رہا تھا کہ اَذان کی آواز آئی تو اتنی دیر کھڑا ہو جائے سُنے اور جواب دے۔ (3) (عالمگیری، بزازیہ) 

    مسئلہ ۵۹: اِقامت کا جواب مستحب ہے، اس کا جواب بھی اسی طرح ہے۔ فرق اتنا ہے کہ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃ
کے جواب میں
اَقَامَھَا اللہُ وَ اَدَامَھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ
کہے۔ (4) (عالمگیری) یا
اَقَامَھَا اللہُ وَاَدَامَھَا وَجَعَلْنَا مِنْ صَالِحِیْ اَھْلِھَا اَحْیَاءً وَ اَمْوَاتًا ۔ (5)
 (رضا)
    مسئلہ ۶۰: اگر چند اَذانیں سُنے، تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ کہ سب کا جواب دے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۶۱: اگر بوقتِ اَذان جواب نہ دیا، تو اگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، اب دے لے۔ (7) (درمختار) 

    مسئلہ ۶۲: خطبہ کی اَذان کا جواب زبان سے دینا، مقتدیوں کو جائز نہیں۔ (8) (درمختار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۱. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۸۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷. 

اﷲ اس کو قائم رکھے اور ہميشہ رکھے جب تک آسمان اور زمين ہيں۔ ۱۲ 

5۔۔۔۔۔۔ ہم کو زندگی ميں اور مرنے کے بعد اس کے نیک اہل سے بنائے۔ ۱۲ 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۲. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۳. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۷. 

مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ '' ميں فرماتے ہيں: ''مقتديوں کو خطبے کی اذان کا جواب ہرگز نہيں 

دينا چاہيے يہی احوط ہے۔ ہاں اگر يہ جوابِ اذان يا (دو خطبوں کے درميان) دُعا، اگر دل سے کريں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو توحرج کوئی نہيں۔ اور امام يعنی خطيب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے يا دعا کرے، بلاشبہ جائز ہے۔ 

( ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۸، ص۳۰۰۔۳۰۱)
Flag Counter