پر پہنچے، یہی حکم امام کے ليے ہے۔ (2) (عالمگیری) آج کل اکثر جگہ رواج پڑ گیا ہے کہ وقت اِقامت سب لوگ کھڑے رہتے ہیں بلکہ اکثر جگہ تو یہاں تک ہے کہ جب تک امام مُصلّے پر کھڑا نہ ہو، اس وقت تک تکبیر نہیں کہی جاتی، یہ خلاف سنت ہے۔
مسئلہ ۴۷: مسافِر نے اَذان و اِقامت دونوں نہ کہی يا اِقامت نہ کہی، تو مکروہ ہے اور اگر صرف اِقامت پر اِکتفا کیا، تو کراہت نہیں، مگر اولیٰ یہ ہے کہ اَذان بھی کہے، اگرچہ تنہا ہو يا اس کے سب ہمراہی وہیں موجود ہوں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: بیرونِ شہر کسی میدان میں جماعت قائم کی اور اِقامت نہ کہی، تو مکروہ ہے اور اَذان نہ کہی، تو حرج نہیں، مگر خلافِ اَولیٰ ہے۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۴۹: مسجد محلہ یعنی جس کے ليے امام و جماعت معین ہو کہ وہی جماعت اُولیٰ قائم کرتا ہو، اس میں جب جماعت اُولیٰ بطریق مسنون ہوچکی، تو دوبارہ اَذان کہنا مکروہ ہے اور بغیر اَذان اگر دوسری جماعت قائم کی جائے، تو امام محراب میں نہ کھڑا ہو، بلکہ دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہو کہ امتياز رہے۔ اس امام جماعت ثانیہ کو محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور مسجد محلہ نہ ہو جیسے سڑک، بازار، اسٹیشن، سرائے کی مسجدیں جن میں چند شخص آتے ہیں اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں، پھر کچھ اور آئے اور پڑھی، وعلیٰ ہذا تو اس مسجد میں تکرار اَذان مکروہ نہیں، بلکہ افضل یہی ہے کہ ہر گروہ کہ نیا آئے، جدید اَذان و اِقامت کے ساتھ جماعت کرے، ایسی مسجد میں ہر امام محراب میں کھڑا ہو۔ (5) (درمختار، عالمگیری، فتاویٰ قاضی خان، بزازیہ) محراب سے مراد وسط مسجد ہے، یہ طاق معروف ہو یا نہ ہو، جیسے مسجد الحرام شریف جس میں یہ محراب اصلاً نہیں يا ہرمسجد صیفی یعنی صحن مسجد اس کا وسط محراب ہے، اگرچہ وہاں عمارت اصلاً نہیں ہوتی محراب حقیقی یہی ہے اور وہ شکل طاق محراب صوری کہ زمانۂ رسالت و زمانۂ خلفائے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۵.
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أوّل من بنی المنائر للأذان، ج۲، ص۶۷،۷۸.
4۔۔۔۔۔۔ الفتاوی الخانیۃ، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۸.
5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۸.