Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
469 - 651
    مسئلہ ۳۴: اَذان مئذنہ (1) پر کہی جائے يا خارج مسجد اور مسجد میں اَذان نہ کہے۔ (2) (خلاصہ، عالمگیری) مسجد میں اَذان کہنا، مکروہ ہے۔ (3) (غایۃ البیان، فتح القدیر، نظم زندویستی، طحطاوی علی المراقی) یہ حکم ہر اَذان کے ليے ہے، فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اَذان اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اَذانِ ثانی جمعہ بھی اسی میں داخل ہے۔ امام اتقانی و امام ابن الہمام نے یہ مسئلہ خاص باب جمعہ میں لکھا، ہاں اس میں ایک بات البتہ یہ زائد ہے کہ خطیب کے محاذی ہو، یعنی سامنے باقی مسجد کے اندر منبر سے ہاتھ دو ہاتھ کے فاصلہ پر، جیسا کہ ہندوستان میں اکثر جگہ رواج پڑ گیا ہے، اس کی کوئی سند کسی کتاب میں نہیں، حدیث و فقہ دونوں کے خلاف ہے۔ 

    مسئلہ ۳۵: اَذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے، اﷲ اکبر اﷲ اکبر دونوں مل کر ایک کلمہ ہیں، دونوں کے بعد سکتہ کرے (4) درمیان میں نہیں اور سکتہ کی مقدار یہ ہے کہ جواب دینے والا، جواب دے لے اور سکتہ کا ترک مکروہ ہے اور ایسی اَذان کا اعادہ مستحب ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۶: اگر کلماتِ اَذان یا اِقامت میں کسی جگہ تقدیم و تاخیر ہوگئی، تو اتنے کو صحیح کرلے۔ سرے سے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر صحیح نہ کيے اور نماز پڑھ لی، تو نماز کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (6) (عالمگیری)
    مسئلہ ۳۷:
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
داہنی طرف مونھ کر کے کہے اور
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
بائیں جانب اگرچہ اَذان نماز کے ليے نہ ہو بلکہ مثلاً بچے کے کان میں یا اور کسی ليے کہی یہ پھیرنا فقط مونھ کا ہے، سارے بدن سے نہ پھرے۔ (7) (متون، درمختار)
    مسئلہ ۳۸: اگر منارہ پر اَذان کہے تو داہنی طرف کے طاق سے سر نکال کر
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
کہے اور بائیں جانب کے طاق سے
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔
 (8) (شرح وقایہ) یعنی جب بغیر اس کے آواز پہنچنا پورے طور پر نہ ہو۔ (9) (ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ مينارا۔

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''مراقي الفلاح''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان،ص۱۹۷.

4۔۔۔۔۔۔ یعنی چُپ ہوجائے۔ 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في الکلام علی حديث ((الأذان جزم)) 

ج۲، ص۶۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''،الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۶۶، و ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ص۱۵۳. 

8۔۔۔۔۔۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۱۵۳. 

9۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في أوّل من بنیٰ المنائر... إلخ، ج۲، ص۶۷.
Flag Counter