نماز کی پچھلی رکعت میں فساد ہو، تو سب فاسد ہے۔ (افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۲۵: بیٹھ کر اَذان کہنا مکروہ ہے، اگر کہی اعادہ کرے، مگر مسافِر اگر سواری پر اَذان کہہ لے، تو مکروہ نہیں اور اِقامت مسافِر بھی اتر کر کہے، اگر نہ اترا اور سواری ہی پر کہہ لی، تو ہو جائے گی۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶ : اَذان قبلہ رو کہے اور اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے، اُس کا اعادہ کيا جائے، مگر مسافِر جب سواری پر اَذان کہے اور اُ س کا مونھ قبلہ کی طرف نہ ہو، تو حرج نہيں۔ (2) ( در مختار، عالمگيری، رد المحتار )
مسئلہ ۲۷: اَذان کہنے کی حالت میں بلا عذر کھکارنا مکروہ ہے اور اگر گلا پڑ گیا يا آواز صاف کرنے کے ليے کھکارا، تو حرج نہیں۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۲۸: مؤذن کو حالت اَذان میں چلنا مکروہ ہے اور اگر کوئی چلتا جائے اور اسی حالت میں اَذان کہتا جائے تو اعادہ کریں۔ (4) (غنیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: اَثنائے اَذان میں بات چیت کرنا منع ہے، اگر کلام کیا، تو پھر سے اَذان کہے۔ (5) (صغیری)
مسئلہ ۳۰: کلمات اَذان میں لحن حرام ہے، مثلاً اﷲ يا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آﷲ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۱: یوہیں کلمات اَذان کو قواعد موسیقی پر گانا بھی لحن و ناجائز ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: سنت یہ ہے کہ اَذان بلند جگہ کہی جائے کہ پروس والوں کو خوب سنائی دے اور بلند آواز سے کہے۔ (8) (بحر)
مسئلہ ۳۳: طاقت سے زیادہ آواز بلند کرنا، مکروہ ہے۔ (9) (عالمگیری)