مؤذن کے ليے ہے۔ (1) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۱۹: مستحب یہ ہے کہ مؤذن مرد، عاقل، صالح، پرہیزگار، عالِم بالسنۃ ذی وجاہت، لوگوں کے احوال کا نگراں اور جو جماعت سے رہ جانے والے ہوں، ان کو زجر کرنے والا ہو، اَذان پر مداومت (2) کرتا ہو اور ثواب کے ليے اَذان کہتا ہو یعنی اَذان پر اجرت نہ لیتا ہو، اگر مؤذن نابینا ہو، اوروقت بتانے والا کوئی ایسا ہے کہ صحیح بتا دے، تو اس کا اور آنکھ والے کا، اَذان کہنا یکساں ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: اگر مؤذن ہی امام بھی ہو، تو بہتر ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: ایک شخص کو ایک وقت میں دو مسجدوں میں اَذان کہنا مکروہ ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اَذان و اِمامت کی ولایت بانئ مسجد کو ہے، وہ نہ ہو، تو اس کی اولاد، اس کے کنبہ والوں کو اور اگر اہلِ محلہ نے کسی ایسے کو مؤذن یا امام کیا، جو بانی کے مؤذن و امام سے بہتر ہے، تو وہی بہتر ہے۔ (6) (درمختار، رد المحتار )
مسئلہ ۲۳: اگر اَثنائے اَذان (7) میں مؤذن مر گیا يا اسکی زبان بند ہوگئی يا رُک گیا اور کوئی بتانے والا نہیں يا اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے چلا گیا يا بے ہوش ہو گیا، تو ان سب صورتوں میں سرے سے اَذان کہی جائے، وہی کہے، خواہ دوسرا۔ (8) (درمختار، غنيہ)
مسئلہ ۲۴: اَذان کے بعد معاذا ﷲ مُرتد ہوگیا، تو اعادہ کی حاجت نہیں اور بہتر اعادہ ہے اور اگر اَذان کہتے میں مُرتد ہوگیا، تو بہتر ہے کہ دوسرا شخص سرے سے کہے اور اگر اسی کو پورا کر لے تو بھی جائز ہے۔ (9) (عالمگیری) یعنی یہ دوسرا شخص باقی کو پورا کر لے، نہ یہ کہ وہ بعد ارتداد اس کی تکمیل کرے، کہ کافر کی اَذان صحیح نہیں اور اَذان متجزی نہیں، تو فسادِ بعض، فسادِ کل ہے، جیسے