مسئلہ ۱۲: بچّے اور مغموم کے کان میں اور مرگی والے اور غضب ناک اور بد مزاج آدمی یا جانور کے کان میں اور لڑائی کی شدّت اور آتش زدگی (1) کے وقت اور بعد دفن میت (2) اور جن کی سرکشی کے وقت اور مسافِر کے پیچھے اور جنگل میں جب راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو اس وقت اَذان مستحب ہے۔ (3) (ردالمحتار) وبا کے زمانے میں بھی مستحب ہے۔ (4) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۳: عورتوں کو اَذان و اِقامت کہنا مکروہ تحریمی ہے، کہیں گی گناہ گار ہوں گی اور اعادہ کی جائے۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: عورتیں اپنی نماز ادا پڑھتی ہوں یا قضا، اس میں اَذان و اِقامت مکروہ ہے، اگرچہ جماعت سے پڑھیں۔ (6) (درمختار) کہ ان کی جماعت خود مکروہ ہے۔ (7) (متون)
مسئلہ ۱۵: خنثیٰ و فاسِق اگرچہ عالِم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچّے اور جنب کی اَذان مکروہ ہے، ان سب کی اَذان کا اعادہ کیا جائے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: سمجھ وال بچّہ اور غلام اور اندھے اور ولدالزنا اور بے وضو کی اَذان صحیح ہے۔ (9) (درمختار) مگر بے وضو اَذان کہنا مکروہ ہے۔ (10) (مراقی الفلاح)
مسئلہ ۱۷: جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز کے ليے اَذان ناجائز ہے۔ ا گرچہ ظہر پڑھنے والے معذور ہوں، جن پر جمعہ فرض نہ ہو۔ (11) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: اَذان کہنے کا اہل وہ ہے، جو اوقاتِ نماز پہچانتا ہو اور وقت نہ پہچانتا ہو، تو اس ثواب کا مستحق نہیں، جو