ہے۔'' عرض کرتے ہیں: ''تیرے بندوں کے پاس سے، جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انھیں نماز پڑھتا چھوڑ کر تیرے پاس حاضر ہوئے۔'' (1)
حدیث ۳۵: ابن ماجہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسجد جماعت ميں چالیس راتیں نماز عشا پڑھے، کہ رکعت اولیٰ فوت نہ ہو، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔'' (2)
حدیث ۳۶: طَبَرانی نے عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''سب نمازوں میں زیادہ گراں منافقین پر نماز عشا و فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے، اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے۔'' (3) یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا۔
حدیث ۳۷: بَزّار نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو نماز عشا سے پہلے سوئے اﷲ اس کی آنکھ کو نہ سلائے۔'' (4) نماز نہ پڑھنے پر جو وعیدیں آئیں ان میں سے بعض یہ ہیں:
حدیث ۳۸: صحیحین میں نوفل بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس کی نماز فوت ہوئی گویا اس کے اہل و مال جاتے رہے۔'' (5)
حدیث ۳۹: ابو نعیم ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ــــــــــــــــــــــــــ''جس نے قصداً نماز چھوڑی، جہنم کے دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔ '' (6)
حدیث ۴۰: امام احمد اُمّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''قصداً نماز ترک نہ کرو کہ جو قصداً نماز ترک کردیتا ہے، اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اس سے بری الذمہ ہیں۔'' (7)
حدیث ۴۱: شیخین نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: