Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
442 - 651
''جس دین میں نماز نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں۔'' (1) 

    حدیث ۴۲: بیہقی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جس نے نماز چھوڑ دی اس کا کوئی دین نہیں، نماز دین کا ستون ہے۔'' (2) 

    حدیث ۴۳: بَزّار نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں، جس کے ليے نماز نہ ہو۔'' (3) 

    حدیث ۴۴: امام احمد و دارمی و بیہقی شُعَبُ الاِيمان میں راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے نماز پر محافظت (مداومت) کی، قیامت کے دن وہ نماز اس کے ليے نور و برہان و نجات ہو گی اور جس نے محافظت نہ کی اس کے ليے نہ نور ہے نہ برہان نہ نجات اور قیامت کے دن قارون و فرعون و ہامان و اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔'' (4) 

    حدیث ۴۵: بُخاری و مُسلِم و امام مالک نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صوبوں کے پاس فرمان بھیجا کہ'' تمھارے سب کاموں سے اہم میرے نزدیک نماز ہے ''جس نے اس کا حفظ کیا اور اس پر محافظت کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اسے ضائع کیا وہ اوروں کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر ے گا۔'' (5) 

    حدیث ۴۶: ترمذی عبداﷲ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ صحابہ کرام کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں جانتے سوا نماز کے۔ (6) بہت سی ایسی حدیثیں آئیں جن کا ظاہر یہ ہے کہ قصداً نما زکا ترک کفر ہے اور بعض صحابۂ کرام مثلاً حضرت امیر المومنین فاروق اعظم و عبدالرحمن بن عوف و عبداﷲ بن مسعود و عبداﷲ بن عباس و جابر بن عبداﷲ و معاذ بن جبل و ابو ہریرہ و ابوالدردأ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی مذہب تھا اور بعض ائمہ مثلاً امام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ و عبداﷲ بن مبارک و امام نخعی کا بھی یہی مذہب تھا، اگرچہ ہمارے امام اعظم و دیگر آئمہ نیز بہت سے صحابۂ کرام اس کی تکفیر نہیں کرتے (7) پھر بھی یہ کیا تھوڑی بات ہے کہ ان جلیل القدر حضرات کے نزدیک ایسا شخص'' کافِر'' ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث عثمان بن أبي العاص، الحدیث: ۱۷۹۳۴، ج۶، ص۲۷۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوٰت، الحدیث: ۲۸۰۷، ج۳، ص۳۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحديث: ۱۹۰۹۴، ج۷، ص۱۳۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اﷲ بن عمرو، الحدیث: ۶۵۸۷، ج۲، ص۵۷۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الموطا'' للإمام مالک، کتاب وقوت الصلاۃ، الحدیث: ۶، ج۱، ص۳۵. 

6۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الإيمان، باب ماجاء في ترک الصلاۃ، الحدیث: ۲۶۳۱، ج۴، ص۲۸۲. 

7۔۔۔۔۔۔ یعنی کافر نہيں کہتے۔
Flag Counter