اور متعدد حدیثوں میں آیا ہے، کہ جب تک نماز کے انتظار میں ہے اس وقت تک وہ نماز ہی میں ہے، یہ فضائل مطلق نماز کے ہیں اور خاص خاص نمازوں کے متعلق جو احادیث وارد ہوئیں، ان میں بعض یہ ہیں:
حدیث ۳۰: طَبَرانی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں: ''جو صبح کی نماز پڑھتا ہے، وہ شام تک اﷲ کے ذمہ میں ہے۔'' (4) دوسری روایت میں ہے، ''تو اﷲ کا ذمہ نہ توڑو، جو اﷲ کا ذمہ توڑے گا اﷲ تعالیٰ اسے اوندھا کرکے دوزخ میں ڈال دے گا۔'' (5)
حدیث ۳۱: ابن ماجہ سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو صبح نماز کو گیا، ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح بازار کو گیا، ابلیس کے جھنڈے کے ساتھ گیا۔'' (6)
حدیث ۳۲: بیہقی نے شُعَبُ الاِيمان میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً روایت کی، کہ ''جو نماز صبح کے ليے طالب ثواب ہو کر حاضر ہوا ،گویا اس نے تمام رات قیام کیا (عبادت کی) اور جو نماز عشا کے ليے حاضر ہوا گویا اس نے نصف شب قیام کیا۔'' (7)
حدیث ۳۳: خطیب نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے چالیس دن نماز فجر و عشا باجماعت پڑھی، اس کو اﷲ تعالیٰ دو برائتیں عطا فرمائے گا، ایک نار سے دوسری نفاق سے۔'' (8)
حدیث ۳۴: امام احمد ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: رات اور دن کے ملائکہ نماز فجر و عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ جاتے ہیں تو اﷲ عزوجل ان سے فرماتا ہے: ''کہاں سے آئے؟ حالانکہ وہ جانتا