Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
438 - 651
    حدیث ۱۶: طَبَرانی اَوسَط میں راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بندہ کی یہ حالت سب سے زیادہ پسند ہے کہ اسے سجدہ کرتا دیکھے کہ اپنا مونھ خاک پر رگڑ رہا ہے۔ (1) 

    حدیث ۱۷: طَبَرانی اَوسَط میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''کوئی صبح و شام نہیں مگر زمین کا ایک ٹکڑا دوسرے کو پکارتا ہے، آج تجھ پر کوئی نیک بندہ گزرا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکرِ الٰہی کیا؟ اگر وہ ہاں کہے تو اس کے ليے اس سبب سے اپنے اوپر بزرگی تصور کرتا ہے۔'' (2) 

    حدیث ۱۸: صحیح مُسلِم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہارت۔'' (3) 

    حدیث ۱۹: ابو داود نے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو طہارت کرکے اپنے گھر سے فرض نما زکے ليے نکلا اس کا اجر ایسا ہے جیسا حج کرنے والے محرم کا اور جو چاشت کے ليے نکلا اس کا اجر عمرہ کرنے والے کی مثل ہے'' اور ایک نماز دوسری نماز تک کہ دونوں کے درمیان میں کوئی لغوبات نہ ہو علیّین میں لکھی ہوئی ہے (4) یعنی درجہ قبول کو پہنچتی ہے۔ 

    حدیث ۲۰ و ۲۱ : امام احمد و نَسائی و ابن ماجہ نے ابو ایوب انصاری و عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے وضو کیا جیسا حکم ہے اور نماز پڑھی جیسی نماز کا حکم ہے، تو جو کچھ پہلے کیا ہے معاف ہوگیا۔'' (5) 

    حدیث ۲۲: امام احمد ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو اﷲ کے ليے ایک سجدہ کرتا ہے، اس کے ليے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے۔'' (6) 

    حدیث ۲۳: کنز العمال میں ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو تنہائی میں دو رکعت نماز پڑھے کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۶۰۷۵، ج۴، ص۳۰۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الألف، الحدیث: ۵۶۲، ج۱، ص۱۷۱. 

3۔۔۔۔۔۔ لم نجد ہذاالحدیث في صحيح مسلم .

''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۶۶۸، ج۵، ص۱۰۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل المشي إلی الصلاۃ، الحدیث: ۵۵۸، ج۱، ص۲۳۱. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطہارۃ، باب من توضأ کما أمر، الحدیث: ۱۴۴، ص۳۱. 

6۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي ذر الغفاري، الحدیث: ۲۱۵۰۸، ج۸، ص۱۰۴.
Flag Counter