Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
436 - 651
عرض کی، اُس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (1)
 (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ ) (2)
    نماز قائم کردن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں بے شک نیکیاں گناہوں کو دور کرتی ہیں، یہ نصيحت ہے، نصيحت ماننے والوں کے ليے۔

    انھوں نے عرض کی، یا رسول اﷲ! کیا یہ خاص میرے ليے ہے؟ فرمایا: ''میری سب اُمت کے ليے۔'' 

    حدیث ۶: صحیح بُخاری و مُسلِم میں ہے کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا اعمال میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کیا ہے؟ فرمایا: ''وقت کے اندر نماز۔''، ميں نے عرض کی، پھر کيا؟ فرمایا: ''ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا۔''، میں نے عرض کی، پھر کیا؟ فرمایا: ''راہِ خدا میں جہاد۔'' (3) 

    حدیث ۷: بیہقی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک صاحب نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! اسلام میں سب سے زیادہ اﷲ کے نزدیک محبوب کیا چیز ہے؟ فرمایا: ''وقت میں نماز پڑھنا اور جس نے نماز چھوڑی اس کا کوئی دین نہیں۔ نماز دین کا ستون ہے۔'' (4) 

    حدیث ۸: ابو داود نے بطریق عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدّہ روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب تمھارے بچّے سات برس کے ہوں، تو اُنھیں نماز کا حکم دو اور جب دس برس کے ہو جائیں، تو مار کر پڑھاؤ۔'' (5) 

    حدیث ۹: امام احمد روایت کرتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جاڑوں (6) میں باہر تشریف لے گئے، پت جھاڑ کا زمانہ تھا، دو ٹہنیاں پکڑ لیں، پتّے گرنے لگے، فرمایا: ''اے ابوذر! میں نے عرض کی، لبیک یا رسول اﷲ! فرمایا: ''مسلمان بندہ اﷲ کے ليے نماز پڑھتا ہے، تو اس سے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے اس درخت سے یہ پتّے۔'' (7) 

    حدیث ۱۰: صحیح مُسلِم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ، الحدیث: ۵۲۶، ج۱، ص۱۹۶. 

2۔۔۔۔۔۔ پ۱۲، ھود: ۱۱۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ، الحدیث: ۵۲۷، ج۱، ص۱۹۶. 

4۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوٰت، الحدیث: ۲۸۰۷، ج۳، ص۳۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب متی يؤمر الغلام بالصلاۃ، الحدیث: ۴۹۵، ج۱، ص۲۰۸. 

6۔۔۔۔۔۔ سرديوں۔ 

7۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي ذرالغفاري، الحدیث: ۲۱۶۱۲، ج۸، ص۱۳۳.
Flag Counter