| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
دقیقہ فروگذاشت نہیں فرمایا ہے اور ہر پہلو پر کامل غور فرما کر شرح و بسط کے ساتھ اس کا فیصلہ فرمادیا ہے مسلمان کو لازم ہے کہ کسی ایسی بات پر جس کا اسے اس سے پہلے علم نہ ہو سن کر ضد و انکار نہ کرے بلکہ نہایت نیک نیتی سے تحقیق سے کام لے مجھ کو مولانا کی اس تحریر اور پھر اس پر دیگر علمائے اکابرین دامت برکاتہم کی تصدیقات سے قطعاً اتفاق ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم.
الحق ان الحق فی ہذہ الصورۃ مع العلامۃ المجیب الفاضل اللبیب الحضرۃ مولٰـنا امجد علی صاحب القادری الرضوی سلمہ اللہ تعالیٰ والحق احق ان یتبع
جو کچھ حضرت مولانا الحکیم حامی سنت ماحی بدعت عالم لوذعی فاضل یلمعی مولوی امجد علی صاحب قادری رضوی نے تحریر فرمایا ہے وہی صواب و صحیح و حق صریح ہے۔
فقط فقیر قادری حکیم عبد الاحد خادم مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت تلمیذ مولانا وصی احمد صاحب قبلہ محدث سورتیقدس سرہ العلی بجاہ النبی الامی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ واﷲ تعالیٰ اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم.
ما اجاب بہ العالم النبیل و الفاضل الجلیل مولانا المولوی محمد امجد علی صاحب فہو حق صریح ابو سراج عبد الحق رضوی تلمیذ مولانا المولوی محمد وصی احمد محدث سورتی غفر اللہ العلیٰ۔