Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
427 - 432
    غرر میں ہے:
    یجوز وان غیر اوصافہ جامد کزعفران و ورق فی الاصح ۔ (1)
    نور الایضاح میں ہے:
    لا یضر تغیر اوصافہ کلہا بجامد کزعفران ۔ (2)
    رہا یہ کہ اس کا تلفظ حقہ کی طرف اضافت کرکے ہوتا ہے اس سے اس پانی کا مقید ہونا لازم نہیں جیسے گھڑے کا پانی، دیگ کا پانی یہ اضافت اضافت تعریف ہے نہ تقید جیسے
'' ماء البئر ماء البحر ماء الزعفران .''
    تبیین میں ہے:
    اضافتہ الیٰ الزعفران ونحوہ للتعریف کاضافتہ الی البئر. (3)
    شلبیہ علی الزیلعی میں ہے:
    اضافتہ الیٰ الوادی والعین اضافۃ تعریف لا تقیید لانہ تتـعرف ما ھیتہ بدون ھذہ الاضافۃ ۔ (4)
    اگر یہ خیال ہو کہ اس میں بدبو ہوتی ہے اس وجہ سے ناجائز ہو تو اولاً: مطلقاً یہ حکم کہ حقہ کے پانی میں بدبو ہوتی ہے غلط ہے۔ ثانیا: مدار آب مطلق و مقید پر ہے خوشبو بدبو کو کیا دخل زعفران اگر پانی میں اتنا ملا کہ رنگنے کے قابل ہوگیا اس سے وضو ناجائز ہے اگرچہ خوشبو رکھتا ہے۔ گلاب خوشبو رکھتا ہے مگر عامہ کتب مذہب میں ہے کہ گلاب سے وضو ناجائز۔ 

    ہدایہ و خانیہ میں ہے:
'' لا بماء الورد .'' (5)
    منیہ و غنیہ میں ہے:
    لایجوز الطھارۃ الحکمیۃ بماء الورد و سائر الازھار. (6)
    پتے پانی میں گرے کہ اوصاف ثلثہ میں تغیر آگیا تو اس میں کیا بدبو نہ ہوگی اور نصوص مذہب سے یہ ثابت کہ اس پانی سے وضو جائز۔رسی کوئیں میں لٹکتی رہی اور پانی کے اوصاف ثلٰثہ رنگ ،بو، مزہ سب بدل گئے اس کا جزئیہ سن چکے کہ امام شیخ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''غرر الاحکام''، کتاب الطھارۃ، فرض الغسل، ج۱، ص۲۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''نور الإیضاح''، کتاب الطھارۃ، ص۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''تبیین الحقائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۷۹. 

4۔۔۔۔۔۔ ''حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۷۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطھارات، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوئ، ومالا یجوز، ج۱، ص۲۰. 

6۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي و غنیۃ المتملي''، فصل في بیان احکام المیاہ، ص۸۹.
Flag Counter