پانی میں کھجوریں ڈالی گئیں کہ پانی میں شیرینی آگئی مگر نبیذ کی حد کو نہ پہنچا تو بالاتفاق اس سے وضو جائز ہے۔
حلیہ و تبیین و ہندیہ میں ہے:
'' الماء الذی القی فیہ تمیرات فصارحلوا ولم یزل عنہ اسم الماء وہو رقیق یجوز بہ الوضوء بلا خلاف بین اصحابنا .'' (3)
ان عبارات جلیلہ فقہائے کرام و ائمہ اعلام سے واضح ہوگیا کہ محض تغیر اوصاف مانع وضو نہیں تاوقتیکہ شے دیگر مقصد دیگر کے لیے ہوکر نام آب نہ بدل جائے۔ اب مسئلہ مبحوث عنہا میں اگر حقہ کو آب مستعمل یا ایسی چیزسے تازہ کیا کہ قابل وضو نہ تھی مثلاً گلاب یا عرق گاؤ زبان یا عرق بادیان تو یہ سب تو پہلے ہی سے ناقابل وضو و اغتسال تھے اس میں حقہ کا کیا قصور نہ اس سے ہم نے وضو جائز بتایا۔ کلام اس میں ہے کہ پہلے سے قابل وضو تھا اور حقہ کی وجہ سے اگرچہ متغیر ہوگیاوہی حکم سابق رکھتا ہے اب اگر تازہ کرنے کے بعد ایک ہی چلم پیا گیا۔ تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اوصاف کا تغیر بالکل محسوس نہیں ہوتا اس جواز وضو میں کیا کلام ہوسکتا ہے اور جہاں تغیر ہوا، اگرچہ سب اوصاف کا مگر جب تک رقت باقی ہے بحکم نصوص ائمہ و علمائے مذہب کسی حنفی کو کلام نہ ہونا چاہیے کہ مائے مطلق کی تعریف اس پر صادق کہ رقت باقی اور کسی ایسی شے کا خلط بھی نہ ہوا جو مقدار میں زائد ہو نہ شے دیگر مقصد دیگر کے لیے ہو کر نام آب متغیر ہوا کہ ہر شخص اس کو پانی ہی کہتا ہے معترض بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ حقہ کا پانی پاک کردیا۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے:
(یجوز بماء خالطہ طاھر جامد) مطلقا (کفاکہۃ و ورق شجر ) وان غیر کل اوصافہ ( فی الاصح ان بقیت رقتہ ) ای و اسمہ ۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۷۰.
2۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في ان التوضي من الحوض... إلخ، ج۱، ص۳۷۰.
3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۲.
4۔۔۔۔۔۔ ''تنویر الأبصار'' و '' الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۶۹.