| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
الاسلام غزی تمر تاشی فرماتے ہیں کہ وضو جائز، کولتار پانی میں پڑگیا جس سے اس میں سخت بدبو آگئی اگر گاڑھا نہ ہوا وضو جائز ہے۔
فتاوائے زینیہ میں ہے:سئل عن الماء المتغیر ریحہ بالقطران یجوز الوضوء منہ ام لا اجاب نعم یجوز . (1)
ثالثا
متعدد کتابوں کی تصریحیں ذکر کی گئیں کہ صرف تغیر اوصاف ثلثہ مانع جواز وضو نہیں کسی نے اس کو خوشبو یا بدبو سے مقید نہ کیا، لہٰذا حکم مطلق پر ہے وﷲ الحمد تو جب ان براہین لائحہ سے ثابت ہوا کہ یہ پانی طاہر و مطہر ہے تو مثلاً کسی نے مونھ ہاتھ دھولئے تھے اور پاؤں باقی تھا کہ پانی ختم ہوگیا اور وہاں دوسرا پانی نہیں کہ وضو کی تکمیل کرے اور اس کے پاس حقہ میں اتنا پانی موجود ہے کہ پاؤں دھونے کو کفایت کرے یا اس کے پاس دوسرا پانی بالکل نہیں ہے اور حقہ کا پانی اعضائے وضو کو کافی ہے تو بوجہ دوسرے پانی نہ ہونے کے تیمم کا حکم ہرگز نہیں دیا جاسکتا، کہ
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:(فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا) ـ2ـ
پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کرو۔
اور اس کے پاس پانی تو موجود ہے اب معترضین ہی بتائیں کہ اگر وہ پانی پاتے ہوئے اس سے تکمیل وضو نہ کرے اور تیمم کرلے تو اس نے حکم الٰہی کا خلاف کیا یا نہیں اس کا تیمم باطل ہوا یا نہیں ضرور اس نے حکم الٰہی کا خلاف کیا اور ضرور اس کا تیمم باطل ہوا البتہ اگر وقت ختم ہونے میں عرصہ ہو اور اس پانی میں بدبو آگئی تھی، تو اتنا وقفہ لازم ہوگا کہ بو اُڑ جائے کہ حالت نماز میں اعضا سے بو آنا مکروہ ہے اور اس حالت میں مسجد میں جانے کی اجازت نہ ہوگی کہ بدبو کے ساتھ مسجد میں جانا حرام ہے۔ کچے لہسن، پیاز کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:(( من اکل من ھذہ الشجرۃ المنتـنۃ فـلا یقربن مسجدنا فان الملٰئکۃ تـتأذی مما یتأذی منہ الانس.)) (3)
جو اس درخت بودار سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملٰئکہ اس چیز سے اذیت پاتے ہیں جس چیز سےآدمی کو اذیت پہنچتی ہو۔ رواہ البخاری و مسلم عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الزینیۃ''، کتاب الطھارۃ، ص۳ ( ھامش ''الفتاوی الغیاثیۃ''). 2۔۔۔۔۔۔ پ۵، النسآء : ۴۳. 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، الحدیث : ۵۶۴، ص۲۸۲.