| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
تعریف مائے مطلق اور ان تمام جزئیات سے بخوبی روشن ہوگیا کہ مطلقاً تغیر اوصاف پانی کے مقید کرنے کو کافی نہیں تاوقتیکہ پانی کا نام نہ بدلے۔ جس پانی میں چنے بھیگے یا زعفران کی تھوڑی مقدار گھولی یا مازو وغیرہ اتنے ملائے کہ لکھنے کے قابل نہ ہو یا اسی قسم کے اور جزئیات جن میں جواز وضو کتب فقہ میں مصرح ہے کیا ان پانیوں کے اوصاف نہ بدلے؟ ضرور بدلیتو اگر مطلقاً تغیر اوصاف پانی کو مقید کردیتا تو ان سے وضو جائز ہونے کی کوئی صورت نہ تھی اب اس کے بعض اور جزئیات نقل کرتے ہیں کہ اوصاف تینوں متغیر ہوگئے اور وضو جائز۔ کوئیں میں رسی لٹکتی رہی جس سے اس کا رنگ، مزہ، بو تینوں وصف بدل جائیں اس سے وضو جائز ہے۔
فتاویٰ امام شیخ الاسلام غزی تمر تاشی میں ہے:سئل عن الوضوءِ والاغتسال بماء تغیر لونہ وطعمہ وریحہ بحبلہ المعلق علیہ الاخراج الماء فھل یجوز ام لااجاب یجوز عند جمہور اصحابنا اھ(1) ملتقطا.
موسم خزاں میں بکثرت پتے پانی میں گرے کہ اس کے اوصاف ثلٰثہ کو متغیر کردیا۔ اگرچہ رنگ اتنا غالب ہوگیا کہ ہاتھ میں لینے سے بھی محسوس ہوتا ہو اگر رقت باقی ہے صحیح مذہب میں وضو جائز ہے۔
سراج وہاج و فتاوائے عالمگیریہ وجوہرہ نیرہ و فتاوائے امام غزی تمر تاشی میں ہے:فان تغیرت اوصافہ الثلثۃ بوقوع اوراق الاشجار فیہ وقت الخریف فانہ یجوز بہ الوضوء عند عامۃ اصحابنا رحمہم اللہ تعالٰی . (2)
نیز فتاوائے امام غزی میں مجتبیٰ شرح قدوری سے ہے:
لو غیرالاوصاف الثلثۃ بالاوراق ولم یسلب اسم الماء عنہ ولا معناہ عنہ فانہ یجوز التوضؤ بہ. (3)
عنایہ و حلیہ و بحر و نہر و مسکین و ردالمحتار میں ہے:
المنقول عن الاسا تذۃ انہ یجوز حتی لو ان اوراق الاشجار وقت الخریف تـقع فی الحیاض فیتغیر ماء ھا من حیث اللون والطعم والرائحۃ ثم انھم یتوضؤن منھا من غیر نکیر ۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی الامام الغزی''، ص۴. 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱. 3۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی الامام الغزی''، ص۴،۵ . 4۔۔۔۔۔۔ ''العنایۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوئ، ج۱، ص۶۳ (ھامش ''فتح القدیر'').