اور اگر لکھنے کے قابل نہ ہو تو وضو جائز ہے۔ اگرچہ رنگ سیاہ ہوجائے کہ ابھی نام نہ بدلا۔ ہندیہ میں ہے:
اذا طرح الزاج او العفص فی الماء جاز الوضوء بہ ان کان لا ینقش اذا کـتب کذا فی " البحر " نا قلاعن " التجنیس ". (3)
اذا طرح الزاج فی الماء حتی اسود لکن لم تذھب رقتہ جاز بہ الوضوء ۔ (4)
صرح فی التجنیس بان من التفریع علیٰ اعتبار الغلبۃ بالاجزاء قول الجرجانی اذا طرح الزاج اوالعفص فی الماء جاز الوضوء بہ ان کان لا ینقش اذا کتب فان نقش لا یجوزوا لماء ھو المغلوب. (5)
یوہیں پانی میں چنے یا باقلایا اور غلہ بھگویا یا کیچڑ گچ مٹی چونا مل گیا جب تک رقت باقی ہے وضو جائز ہے ورنہ نہیں ان سب کے جزئیات عامہ کتب مذہب میں مذکور ہیں۔
بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
تغیر الماء المطلق بالطین او بالتراب او بالجص او بالنورۃ او بوقوع الاوراق او الثمار فیہ او بطول المکث یجوز التوضؤبہ لانہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضاً ۔ (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱.
و ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، فصل في مالا یجوز بہ التوضي، ج۱، ص۹.
2۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في حدیث ((لا تسموا العنب الکرم))، ج۱، ص۳۶۱.
3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱.
4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، فصل في مالا یجوز بہ التوضي، ج۱، ص۹.
5۔۔۔۔۔۔ انظر: ''التجنیس و المزید''، کتاب الطھارات، ج۱، ص۲۱۹۔۲۲۰.
6۔۔۔۔۔۔ ''بدائع الصنائع''، کتاب الطھارۃ، مطلب الماء المقید، ج۱، ص۹۵.