یوہیں اگر پانی میں زعفران یا پڑیا اتنی ملائی کہ کپڑا رنگنے کے قابل ہوجائے اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ رقت و سیلان باقی ہو کہ اب بھی یہ پانی نہ کہلائے گا۔ صبغ و رنگ کہا جائے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
ومثلہ الزعفران اذا خالط الماء وصار بحیث یصبغ بہ فلیس بماء مطلق من غیر نظر الی الثخانۃ۔ (3)
لا تجوز بالماء المقید کماء الزعفران. (4) ا ھ قال فی الحلیۃ محمول علی ما اذا کان الزعفران غالبا۔(5)
وان غلبت الحمرۃ وصارمتما سکا لا یجوز التوضی کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (6)
اور اگر رنگ کے قابل نہ ہو تو وضو جائز ہے۔
صغیری میں ہے:
القلیل من الزعفران یغیر الاوصاف الثلثۃ مع کونہ رقیقا فیجوز الوضوء والغسل بہ . (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۲۶.
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱.
3۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في حدیث ((لا تسموا العنب الکرم))، ج۱، ص۳۶۱.
4۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي''، فصل في المیاہ، ص۶۳.
5 ۔۔۔۔۔۔ ''الحلیۃ''
6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱.
7۔۔۔۔۔۔ ''صغیری''، فصل فی بیان احکام المیاہ، ص۵۰.