Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
423 - 432
    بحر میں ہے:
    اما لو کانت النظافۃ تقصد بہ کالسدر والاشنان والصابون یطبخ بہ فانہ یتوضؤ بہ الا اذا خرج الماء عن طبعہ من الرقۃ والسیلان ۔ (1)
    ہندیہ میں ہے:
    وان طبخ فی الماء ما یقصد بہ المبالغۃ فی النظافۃ کالاشنان والصابون جاز الوضوء بہ بالاجماع الا اذا صارثخینا فلا یجوز ھکذا فی " محیط السرخسی ". (2)
    یوہیں اگر پانی میں زعفران یا پڑیا اتنی ملائی کہ کپڑا رنگنے کے قابل ہوجائے اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ رقت و سیلان باقی ہو کہ اب بھی یہ پانی نہ کہلائے گا۔ صبغ و رنگ کہا جائے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
    ومثلہ الزعفران اذا خالط الماء وصار بحیث یصبغ بہ فلیس بماء مطلق من غیر نظر الی الثخانۃ۔ (3)
    منیہ میں ہے:
    لا تجوز بالماء المقید کماء الزعفران. (4) ا ھ قال فی الحلیۃ محمول علی ما اذا کان الزعفران غالبا۔(5)
     ہندیہ میں ہے:
    وان غلبت الحمرۃ وصارمتما سکا لا یجوز التوضی کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (6)
    اور اگر رنگ کے قابل نہ ہو تو وضو جائز ہے۔ 

    صغیری میں ہے:
    القلیل من الزعفران یغیر الاوصاف الثلثۃ مع کونہ رقیقا فیجوز الوضوء والغسل بہ . (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۲۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱. 

3۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في حدیث ((لا تسموا العنب الکرم))، ج۱، ص۳۶۱. 

4۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي''، فصل في المیاہ، ص۶۳. 

5 ۔۔۔۔۔۔ ''الحلیۃ'' 

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱. 

7۔۔۔۔۔۔ ''صغیری''، فصل فی بیان احکام المیاہ، ص۵۰.
Flag Counter