قید سوم ایسی شے نہ ملی ہو کہ اس کے ساتھ مل کر شے دیگر مقصد دیگر کے لیے ہو جائے جس سے پانی کے بدلے کچھ اور نام ہوجائے خواہ کسی چیز کو ملا کر اس میں پکایا ہو جیسے یخنی، شوربا کہ اب پانی نہ رہا۔ مختصر قدوری و ہدایہ و وقایہ و غیر ہاعامہ کتب میں ہے: '' لا یجوز بالمرق.'' (3) بحر الرائق میں ہے:
'' لا یتوضؤ بماء تغیر بالطبخ بما لا یقصد التنظیف کماء المرق والباقلاء لانہ لیس بماء مطلق ''
(4) یا پکایا نہ ہو محض ملا دیا ہو جیسے شکر مصری شہد کا شربت ہدایہ وغیرہا میں ہے:
'' لا یجوز بالا شربہ '' (5)
اس پر عنایہ و کفایہ و بنایہ و غایہ میں فرمایا:
ان اراد بالاشربۃ الحلو المخلوط بالماء کالدبس والشھد المخلوط بہ کانت للماء الذی غلب علیہ غیرہ . (6)
قال صاحب الفرائد المراد من الاشربۃ الحلو المخلوط بالماء کالدبس والشھد . (7)
اگر ایسی چیز جس سے تنظیف یعنی میل کاٹنا مقصود ہے ملائی یا ملاکر طبخ دیا تو جب تک اس پانی کی رقت و سیلان نہ جائے قابل وضو ہے۔ اس کے متعلق فتح القدیر و فتاوائے خانیہ و فتاوائے امام شیخ الاسلام غزی تمر تاشی کے نصوص اوپر گزرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۶۱.
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۱.
3۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطھارات، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوئ، ومالا یجوز، ج۱، ص۲۰.
4۔۔۔۔۔۔ ''البحرا الرائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۲۶.
5۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز، ج۱، ص۲۰.
6۔۔۔۔۔۔ ''البنایۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز بہ، ج۱، ص۲۱۲.
7۔۔۔۔۔۔ ''مجمع الأنھر''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۴۵.