Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
421 - 432
    نیز اسی میں ہے:
    لا باس بماء السیل مختلطا بالطین ان کانت رقۃ الماء غالبۃ فان کان الطین غالبا فلا . (1)
    بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
    لو تغیر الماء بالطین او بالتراب یجوز التوضوء بہ. (2)
    منیہ میں ہے:
    یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاہر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان یکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء وان یکون رقیقا بعد فحکمہ حکم الماء المطلق۔ (3)
    فتاویٰ امام غزی تمر تاشی میں ہے:
    ماء الصابون لو رقیقا یسیل علی العضو یجوز الوضوء بہ وکذا لو اغلی بالاشنان وان ثخن لا کما فی " البزازیۃ ". (4)
    بالجملہ یہی چند عبارات حکم مسئلہ معلوم کرنے کے لیے کافی ہیں اور اس کی نظیریں کتب فقہ میں بکثرت مذکور ہیں کہ بعد زوال رقت و سیلان قابل وضو و غسل نہ رہا۔ قید دوم اس کے ساتھ کسی ایسی شے کا خلط نہ ہو کہ مقدار میں زائد یا مساوی ہے مثلاً عرق گاؤ زبان یا کیوڑا گلاب بید مشک وغیرہ جن میں نہ خوشبو ہو، نہ ذائقہ محسوس ہوتا ہو اگر پانی میں ملیں تو جب تک پانی مقدار میں زائد ہے وضو جائزہے ورنہ نہیں۔ 

    بحر الرائق میں ہے:
    ان کان مائعا موافقا للماء فی الاوصاف الثلثۃ کالماء الذی یؤخذ بالتقطیر من لسان الثور وماء الورد الذی انقطعت رائحتہ اذا اختلط فالعبرۃ للاجزاء فان کان الماء المطلق اکثرجاز الوضوء بالکل وان کان مغلوبا لا یجوزو ان استویا لم یذکر فی ظاہر الروایۃ وفی البدائع قالوا حکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا۔ (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''فتح القدیر''، کتاب الطھارات، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالا یجوز، ج۱، ص۶۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''بدائع الصنائع''، کتاب الطھارۃ، مطلب الماء المقید، ج۱، ص ۹۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي'' فصل في المیاء، ص۶۳ . 

4۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی الامام الغزی''، ص۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۲۸.
Flag Counter