Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
420 - 432
بدل جائے۔ شربت یا لسی یا نبیذ یا روشنائی وغیرہ کہلائے اور اس کے تمام فروع و مباحث کو دو شعر میں جمع فرمایا ؎
مطلق آبے ست کہ بر رقت طبعی خود است 	        نہ درو  مزج  دگر  چیز مساوی یا بیش 

نہ     بخلطے    کہ  بہ   ترکیب   شود   چیز   دگر 		کہ بود ز آب جدا در لقب و مقصد خویش
    زیادتی اطمینان کے لیے قیود تعریف کے متعلق بعض عبارات نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مدعا کے سمجھنے میں آسانی ہوگی، پہلی قید رقت طبعی کا باقی رہنا۔ شلبیہ علی الزیلعی میں ہے:
    الماء المطلق مابقی علی اصل خلقتہ من الرقۃ والسیلان فلواختلط بہ طاہر اوجب غلظہ صار مقیدا۔ (1)
    فتاویٰ امام فقیہ النفس قاضی خان میں ہے:
    لو وقع الثلج فی الماء وصار ثخینا غلیظا لا یجوز بہ التوضوء لانہ بمنزلۃ الجمد وان لم یصر ثخینا جاز۔ (2)
    نیز اسی خانیہ اور فتاوائے عالمگیریہ میں ہے:
    لوبل الخبز بالماء وبقی رقیقا جاز بہ الوضوء. (3)
    نیز اسی خانیہ میں ہے:
    ماء صابون وحرض ان بقیت رقتہ ولطافتہ جاز التوضوء بہ. (4)
    محقق علی الاطلاق امام ابن ہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں۔
    فی " الینابیع " لو نقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ فان طبخ فان کان اذا برد وثخن لا یجوز الوضوء بہ اولم یثخن ورقۃ الماء باقیۃ جاز۔ (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ ''حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۷۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، فصل في مالا یجوز بہ التوضي، ج۱، ص۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، فصل في مالا فیجوز بہ التوضي، ج۱، ص۹. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 

5۔۔۔۔۔۔ ''فتح القدیر''، کتاب الطھارات، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالا یجوز، ج۱، ص۶۵.
Flag Counter