| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
فیہ وکذا الاصطبل اذا کان حارا وعلیٰ کوتہ طابق اوکان فیہ کوز معلق فیہ ماء فترشح وکذا الحمام لو فیھا نجاسات فعرق حیطانھا وکواتھا وتقاطر۔ (1)
فتاوائے عالمگیریہ میں ہے:
دخان النجاسۃ اذا اصاب الثوب اوالبدن الصحیح انہ لا ینجسہ ھکذا فی " السراج الوھاج " وفی الفتاویٰ اذا احرقت العذرۃ فی بیت فعلا دخانہ وبخارہ الیٰ الطابق وانعقد ثم ذاب وعرق الطابق فاصاب ماؤہ ثوبا لا یفسد استحسانا مالم یظہر اثر النجاسۃ وبہ افتی الامام ابوبکر محمد بن الفضل کذا فی " الفتاوی الغیاثیۃ " وکذا الاصطبل اذا کان حارا وعلیٰ کوتہ طابق او بیت البالوعۃ اذا کان علیہ طابق فـعرق الطابق وتقاطر وکذا الحمام اذا احرق فیھا النجاسۃ فعرق حیطانھا وکواہا وتقاطر کذا فی " فتاویٰ قاضیخان ". (2)
نوشادر کہ غلیظ کا بخار جمع ہوکر بنتا ہے علما نے اسے طاہر بتایا۔ رد المحتار میں ہے
اما النوشادرالمستجمع من دخان النجاسۃ فہو طاہر. (3)
ان تقریرات سے منصف مزاج و متبع فقہا کے نزدیک بخوبی ثابت ہوگیا کہ حقہ کا پانی طاہر ہے۔ رہا یہ جاہلانہ شبہہ کہ پاک ہے تو پیتے کیوں نہیں۔ رینٹھ بھی تو پاک ہے پھر کیوں نہیں کھاتے؟ تھوک بھی پاک ہے پھر کیوں نہیں پیتے؟ افیون و بھنگ بھی تو ناپاک نہیں پھر کیا پیو گے؟ جب پاک چیزیں حرام تک ہوتی ہیں تو طبعاً مکروہ و ناپسند ہونا کیا دشوار ہے۔ یہ تو ہمارے دلائل تھے، اب اسے ناپاک کہنے والے بھی تو بتائیں کہ کس آیت سے کہتے ہیں یا حدیث سے یا کتاب سے اور جب کہیں سے نہیں تو یہ شریعت پر افترا ہوگا یا نہیں؟ شریعت پر افترا سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے ۔ اﷲ تعالیٰ ہدایت و توفیق بخشے آمین۔ رہا اس کا مطہر ہونا اس کا مدار مائے مطلق پر ہے کہ مائے مطلق سے وضو و غسل جائز ہیں، مقید سے نہیں۔ کما ھو مصرح فی المتون. لہٰذا پہلے ہم مطلق کی تعریف بیان کریں جس سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ مطلق ہے یا مقید۔ مطلق کی جامع مانع تعریف جو جزئیات منصوبہ سے منتقض نہ ہو وہ ہے جورسالہ النور و النورق میں سیدی و سندی و مستندی مجدد مأتہ حاضرہ اعلیٰ حضرت قبلہ نے فرمائی ہے کہ مطلق وہ پانی ہے کہ اپنی رقت طبعی پر باقی رہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے نہ ملائی گئی ہو جو اس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے۔ نہ ایسی شے کہ اس کے ساتھ مل کر چیز دیگر مقصد دیگر کے لیے ہوجائے جس سے پانی کا نام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، مطلب في العفو عن طین الشارع، ج۱، ص۵۸۳. 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷. 3۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، مطلب العرقيّ الذي یستقطر من درديّ الخمر نجس حرام، بخلاف النوشادر، ج۱، ص۵۸۴.