| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
کہ حقہ کا دھواں پانی پر گزرنے سے پانی نجس نہیں ہوتا تو جب یہ وہی پانی ہے کہ پہلے سے پاک تھا اور اب مرورد خان سے اس کے اوصاف متغیر ہوئے تو اگر اوصاف کا بدلنا سبب نجاست ہو تو لازم کہ شربت گلاب ،کیوڑا، چائے، شوربا اور وہ پانی جس میں زعفران یا شہاب ڈالا ہو بلکہ تمام وہ چیزیں جن میں پانی کے اوصاف بدل جاتے ہیں سب کی سب نجس ہوجائیں اور یہ بداہۃً باطل، لہٰذا ثابت کہ مطلقاً ہر شے کے ملنے سے ناپاک نہ ہوگا۔ بلکہ نجس ہونے کے لیے نجس کی ملاقات ضروری ہے۔
لہٰذا پہلے تمباکو کا ناپاک ہونا شرع سے ثابت کریں پھر شرعاً اس کے دھوئیں کے بھی نجس ہونے کا ثبوت دیں پھر اس کو نجس بتائیں ودونہ خرط القتاد، یہ امر تو ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ تمباکو ایک درخت کا پتّا ہے جس میں کچھ اجزا ملا کر کھاتے، پیتے، سونگھتے ہیں اور یہ بدیہی بات ہے کہ پتے نجس نہیں، باقی اجزا مثلاً شیرہ ریہ یا خوشبو کرنے یا دیگر منافع کے لیے کچھ اجزا اور شامل کیے جاتے ہیں، مثلاً سنبل الطیب، انناس، املتاس، بیر، کٹہل وغیرہا ان میں کوئی چیز نجس نہیں لہٰذا تمباکو طاہر۔ یہ امر آخر ہے کہ اس کے کھانے یا پینے سے بیہوشی کی کیفیت پیدا ہوجائے تو بوجہ تفتیر اس کا اس حد تک کھانا پینا حرام ہوگا کہ۔نھیٰ رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر . (1)
مگر حرام ہونا اور بات ہے نجس ہونا اور، ویسے تو مٹی بھی حد ضرر تک کھانا حرام ہے۔ حالانکہ مٹی پاک بلکہ پاک کرنے والی ہے۔ کتب فقہ میں بے شمار جزئیات ملیں گے کہ کھانا پینا حرام ہے اور شے پاک۔
تنویر الابصار میں ہے:والمسک طاہر حلال . (2)
اس پر ردالمحتار میں فرمایا۔
زاد قولہ حلال لانہ لا یلزم من الطھارۃ الحل کما فی التراب " منح " ا ی فان التراب طاھر ولا یحل اکلہ۔ (3)
توجب تمباکو پاک ٹھہرا، اس کا دھواں کس طرح ناپاک ہوسکتا ہے۔ پاک چیز تو خود پاک چیز ہے، ناپاک چیزوں کے دھوئیں کی نسبت فقہ حنفی کا حکم ہے کہ جب تک اس سے اس ناپاک شے کا اثر ظاہر نہ ہو، حکم طہارت ہے۔
رد المحتار میں ہے:اذا ا حرقت العذرۃ فی بیت فاصاب ماء الطابق ثوب انسان لا یفسدہ استحسانا مالم یظھر اثر النجاسۃ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأشربۃ، باب النھی عن المسکر، الحدیث : ۳۶۸۶، ج۳ ،ص۴۶۱. 2۔۔۔۔۔۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۴۰۴. 3۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في المسک ... إلخ، ج۱، ص۴۰۳.