لو اخرج حیا ولیس بنجس العین ولا بہ حدث او خبث لم ینزح شیئ الا ان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسؤرہ فان نجسا نزح الکل والا لا ھو الصحیح۔ (3) ردالمحتار میں ہے: بخلاف ما اذا کان علی الحیوان خبث ای نجاسۃ وعلم بھا فانہ ینجس مطلقا قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لا یجب نزح شیئ وان کان الظاھرا شتمال بولھا علیٰ افخاذھا لکن یحتمل طھارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ ا ھ ومثلہ فی " الفتح "اھ. (4)
اس عبارت رد المحتار سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب تک کسی شے کا نجس ہونا یقینی معلوم نہ ہو حکم نجاست نہیں دیتے اگرچہ ظاہر نجس ہونا ہو تو حقہ کے پانی کی نسبت جب تک نجس ہونا یقینی نہ ہو نجس نہیں کہہ سکتے۔ نجاست کا یقین تو درکنار یہاں وہم بھی نجاست کا نہیں، اس کی نجاست اسی وقت ثابت ہوگی کہ اس کا نجاست سے مس یا اس میں نجاست خلط یقینا معلوم ہو اور یہ دونوں امر مفقود تو اپنی اصل طہارت پر ہونا ثابت۔ وھو المقصود ثم اقول یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ وہی پانی ہے جو حقہ میں ڈالنے سے پہلے طاہر و مطہر تھا ہاں اگر نجس پانی سے کسی نے حقہ تازہ کیا یا اس کا حقہ اندرسے نجس تھا یا اس پانی میں بعد کو کوئی نجاست پڑی خواہ حقہ کے اندر ہی یا اس میں سے نکالنے کے بعد تو یہ سب بلا شبہ نجس ہی ہیں اس کی طہارت کا کون قائل ہوسکتا ہے اگر بجائے حقہ گھڑا یا لوٹا نجس ہوتے تو ان کا پانی بھی نجس ہوتا اور کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا کہ مطلقاً گھڑے یا لوٹے کا پانی نجس ہوتا ہے کہ یہ نجاست اس کے خصوص نجس ہونے سے ہے نہ یہ کہ گھڑا یا لوٹا ہونا باعث نجاست ہے۔ یوہیں یہاں یہ نجاست خصوص اس ظرف کے نجس ہونے یا اس پانی میں نجس کے ملنے سے ہے نہ یہ کہ اس کا حقہ ہونا سبب نجاست ہے اور کلام یہاں اس میں ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۷.
2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
3۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۰.
4 ۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۰.