| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
تو وہی کافی ہے کہ یہ پانی ہے اور پانی بذاتہ نجس نہیں تاوقتیکہ کسی نجس کا خلط یا نجس کا مس نہ ہو نجس نہیں ہوسکتا۔ نجس کا خلط جیسے شراب یا پیشاب یا دیگر اشیائے نجسہ اس میں مِل جائیں تو اگر قلیل ہے یعنی دہ در دہ سے کم ہے تو اب ناپاک ہوجائے گااور اگر دہ دردہ ہے تو نجس کے ملنے سے بھی اس وقت ناپاک ہوگا کہ اس نجس شے نے اس کے رنگ یا بو یا مزہ کو بدل دیا۔ در مختار میں ہے:
وینجس بتغیر احد اوصافہ من لون او طعم او ریح ینجس الکثیر ولو جاریا اجماعا أماالقلیل فینجس وان لم یتغیر۔ (1) عالمگیریہ میں ہے: الماء الراکد اذاکان کثیرا فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیعہ بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ اوریحہ وعلی ھذا اتفق العلماء وبہ اخذ عامۃ المشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ کذا فی " المحیط ". (2)
مس کی صورت یہ ہے کہ نجس چیز پانی سے چھو جائے اگرچہ اس کے اجزا اس میں نہ ملیں قلیل پانی نجس ہو جائے گا۔ جیسے سوئر کے بدن کا کوئی حصہ اگرچہ بال پانی سے چھو جائے نجس ہوجائے گا۔ اگرچہ وہ فوراً اس سے جدا کرلیا جائے اگر چہ لعاب وغیرہ کوئی نجاست اس کے بدن سے جدا ہوکر پانی میں نہ ملی ہندیہ میں ہے:
وان کان نجس العین کا لخنزیر فانہ یتنجس وان لم یدخل فاہ . (3)
نیز اسی میں ہے:
اما الخنزیر فجمیع اجزائہ نجسۃ . (4)
ردالمحتار میں ہے:
وظاھر الروایۃ ان شعرہ نجس وصححہ فی البدائع ورجحہ فی الاختیار فلو صلی ومعہ منہ اکثر من قدرالدرھم لا تجوز ولو وقع فی ماء قلیل نجسہ۔ (5)
یوہیں کوئی دموی جانور پانی میں گرکر مرجائے یا مرا ہوا گرجائے پانی نجس ہوجائے گا اگرچہ اس کا لعاب وغیرہ پانی سے مخلوط نہ ہو کہ مجرد ملاقات میتہ آب قلیل کو نجس کر دیتی ہے۔
در مختار میں ہے:ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۶۷. 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۸. 3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹. 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب الطھارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴. 5۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار'' کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، مطلب في أحکام الدباغۃ، ج۱، ص۳۹۸ .