بہارِ شریعت حصہ دوم میں جہاں آب مطلق و آب مقید کے جزئیات فقیر نے گنائی ایک مسئلہ یہ بھی بیان میں آیا کہ حقہ کا پانی پاک ہے اگرچہ رنگ و بو و مزہ میں تغیر آجائے اس سے وضو جائز ہے۔بقدر کفایت اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں اس پر کاٹھیاواڑ کے بعض اضلاع کے عوام میں خواہ مخواہ اختلاف پیدا ہوا اور یہاں ایک خط طلب دلیل کے لیے بھیجا۔ چاہیے یہ تھا کہ خلاف کرنے والے دلیل لاتے کہ دلیل ان کے ذمہ ہے نہ ہمارے ذمہ اس لیے کہ پانی اصل میں طاہر مطہر ہے۔ اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(وَ اَنۡزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا) ـ1ـ
اور فرماتا ہے:
( یُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ ) ـ2ـ
رد المحتار میں ہے:
'' ویستدل بالآیۃ ایضا علیٰ طہارتہ اذ لا منۃ بالنجس '' (3)
فقہ کا وہ ارشاد کہ کسی پانی کی نجاست کی کافر نے خبر دی اس کا قول نہ مانا جائے گا اور اس سے وضو جائز ہے۔ کہ نجاست عارضی ہے اور قول کافر دیانات میں نامعتبر۔ (4) لہٰذا اپنی اصل طہارت پر رہے گا۔ اس سے ہمارے قول کی کافی تائید ہے مگر یہ سب باتیں اس کے لیے ہیں جو قواعد شرعیہ کے مطابق کہے یا کہنا چاہے اور آج کل اس سے بہت کم علاقہ رہا ''الاماشاء اﷲ'' اس زمانہ میں تو یہ رہ گیا ہے کہ کچھ کہہ کر عوام میں اختلاف پیدا کردیا جائے۔ صحیح ہو یا غلط اس سے کچھ مطلب نہیں، معترضین اگرچہ اسے ناپاک مانتے ہیں لہٰذا صرف طہارت کی سند دینی ہمیں کافی تھی، مگر ہم احساناً دونوں حکموں کا ثبوت دیتے ہیں۔ طہارت کے متعلق
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ پ۱۹، الفرقان : ۴۸. 2۔۔۔۔۔۔ پ۹، الانفال : ۱۱. 3۔۔۔۔۔۔ ''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۸. 4۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار''، کتاب الحظر والإباحۃ، ج۹، ص۵۶۹.