| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
جب فارغ ہو جائے تو مرد بائیں ہاتھ سے اپنے آلہ کو جڑ کی طرف سے سر کی طرف سونتے کہ جو قطرے رُکے ہوئے ہیں نکل جائیں ،پھر ڈھیلوں سے صاف کرکے کھڑا ہو جائے اور سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے بدن چھپا لے جب قطروں کا آنا موقوف ہو جائے، تو کسی دوسری جگہ طہارت کے لیے بیٹھے اور پہلے تین تین بار دونوں ہاتھ دھولے اور طہارت خانہ میں یہ دُعا پڑھ کر جائے۔
بِسْمِ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ دِیْنِ الْاِسْلَامِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ الَّذِیْنَ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ط ۔ (1)
پھر داہنے ہاتھ سے پانی بہائے اور بائیں ہاتھ سے دھوئے اور پانی کا لوٹا اونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں اور پہلے پیشاب کا مقام دھوئے پھر پاخانہ کا مقام اور طہارت کے وقت پاخانہ کا مقام سانس کا زور نیچے کو دے کر ڈھیلا رکھیں اور خوب اچھی طرح دھوئیں کہ دھونے کے بعد ہاتھ میں بُو باقی نہ رہ جائے ،پھر کسی پاک کپڑے سے پونچھ ڈالیں اور اگر کپڑا پاس نہ ہو تو بار بار ہاتھ سے پونچھیں کہ برائے نام تری رہ جائے اور اگر وسوسہ کا غلبہ ہو تو رومالی پر پانی چھڑک لیں ،پھر اس جگہ سے باہر آکر یہ دُعا پڑھیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ الْمَاءَ طَھُوْرًا وَالْاِسْلَامَ نُوْرًا وَقَائِدًا وَدَلِیْلًا اِلَی اللہِ وَاِلٰی جَنَّاتِ النَّعِیْمِ اَللّٰھُمَّ حَصِّنْ فَرْجِیْ وَطَھِّرْ قَلْبِیْ وَمَحِّصْ ذُنُوْبِیْ ۔ (2)
مسئلہ ۱۰: آگے یا پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صرف پانی ہی سے طہارت کرلی تو بھی جائز ہے مگر مستحب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کر ے۔ (3)
مسئلہ ۱۱: آگے اور پیچھے سے پیشاب ،پاخانہ کے سوا کوئی اَورنَجاست ،مثلاً خون، پیپ وغیرہ نکلے یا اس جگہ خارِج سے نَجاست لگ جائے توبھی ڈھیلے سے صاف کر لینے سے طہارت ہو جائے گی جب کہ اس موضع سے باہر نہ ہو مگر دھو ڈالنا مستحب ہے۔ (4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـ1۔۔۔۔۔۔ اﷲ کے نام سے جو بہت بڑاہے اور اسی کی حمد ہے خدا کا شکرہے کہ میں دین اسلام پر ہوں۔ اے اﷲ تُو مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک لوگوں میں سے کر دے جن پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غم کریں گے۔ ۱۲ 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۰. و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاسنتنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۱۵. حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے پانی کو پاک کرنے والا اور اسلام کو نور اور خدا تک پہنچانے والا اور جنت کا راستہ بتانے والا کیا اے اﷲ تو میری شرم گاہ کو محفوظ رکھ اور میرے دل کو پاک کر اور میرے گناہ دُور کر۔ ۱۲ 3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸. 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.