مسئلہ ۱۲: ڈھیلوں کی کوئی تعداد مُعیّن سنّت نہیں بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈھیلے لیے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتہ مستحب یہ ہے کہ طاق ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے کہ طاق ہو جائیں۔ (1)
مسئلہ ۱۳: ڈھیلوں سے طہارت اس وقت ہو گی کہ نَجاست سے مخرج کے آس پاس کی جگہ ایک درم سے زِیادہ آلودہ نہ ہو اور اگر درم سے زِیادہ سَن جائے تودھونا فرض ہے مگر ڈھیلے لینا اب بھی سنّت رہے گا۔ (2)
مسئلہ ۱۴: کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہیں ،ان سے بھی صاف کر لینا بلا کراہت جائز ہے، دیوار سے بھی استنجا سکھا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار نہ ہو،اگر دوسرے کی ملک ہو یا وقف ہو تو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے اور کر لیا تو طہارت ہو جائے گی ،جو مکان اس کے پاس کرایہ پر ہے اس کی دیوار سے استنجا سکھا سکتا ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: پرائی دیوار سے استنجے کے ڈھیلے لینا جائز نہیں اگرچہ وہ مکان اس کے کرایہ میں ہو۔
مسئلہ ۱۶: ہڈّی اور کھانے اور گوبر اور پکی اینٹ اور ٹھیکری اور شیشہ اور کوئلے اور جانور کے چارے سے اور ایسی چیز سے جس کی کچھ قیمت ہو، اگرچہ ایک آدھ پیسہ سہی ان چیزوں سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۷: کاغذ سے استنجا منع ہے، اگرچہ اس پر کچھ لکھا نہ ہو یا ابو جہل ایسے کافر کا نام لکھا ہو۔
مسئلہ ۱۸: داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا مکروہ ہے، اگر کسی کا بایاں ہاتھ بیکار ہو گیا تو اسے دہنے ہاتھ سے جائز ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۹: آلہ کو دہنے ہاتھ سے چھونا ،یا داہنے ہاتھ میں ڈھیلا لے کر اس پر گزارنا مکروہ ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۰: جس ڈھیلے سے ایک بار استنجا کر لیا اسے دوبارہ کام میں لانا مکروہ ہے مگر دوسری کروٹ اس کی صاف ہو تو اس سے کر سکتے ہیں۔ (7)
مسئلہ ۲۱: پاخانہ کے بعد مرد کے لیے ڈھیلوں کے استعمال کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں پہلا ڈھیلا