مسئلہ ۴: پاخانہ، پیشاب کرتے وقت سورج اور چاند کی طرف نہ مونھ ہو، نہ پیٹھ۔ یوہیں ہَوا کے رُخ پیشاب کرنا ممنوع ہے۔ (1)
مسئلہ ۵: کوئیں یا حوض یا چشمہ کے کنارے یا پانی میں اگرچہ بہتا ہوا ہویا گھاٹ پر یا پھلدار درخت کے نیچے یا اس کھیت میں جس میں زراعت موجود ہو یا سایہ میں جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں یا مسجد اور عید گاہ کے پہلو میں یا قبرستان یا راستہ میں یا جس جگہ مویشی بندھے ہوں ان سب جگہوں میں پیشاب، پاخانہ مکروہ ہے۔ یوہیں جس جگہ وُضو یا غُسل کیا جاتا ہو وہاں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۶: خود نیچی جگہ بیٹھنا اور پیشاب کی دھار اونچی جگہ گرے یہ ممنوع ہے۔ (3)
مسئلہ ۷: ایسی سَخْت زمین پر جس سے پیشاب کی چھینٹیں اُڑ کر آئیں پیشاب کرنا ممنوع ہے، ایسی جگہ کو کرید کر نَرْم کر لے یا گڑھا کھود کر پیشاب کرے۔ (4)
مسئلہ ۸: کھڑے ہو کر یا لیٹ کر یا ننگے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔(5) نیز ننگے سر پاخانہ ،پیشاب کو جانا یا اپنے ہمراہ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دُعا یا اﷲ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے۔ یوہیں کلام کرنا مکروہ ہے۔
مسئلہ ۹: جب تک بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ حاجت سے زِیادہ بدن کھولے ،پھر دونوں پاؤں کشادہ کرکے بائیں پاؤں پر زور دے کر بیٹھے اور کسی مسئلہ دینی میں غور نہ کرے کہ یہ باعثِ محرومی ہے اور چھینک یا سلام یا اذان کا جواب زبان سے نہ دے اور اگر چھینکے تو زبان سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے ،دل میں کہہ لے اور بغیر ضرورت اپنی شَرْمْگاہ کی طرف نظر نہ کرے اور نہ اس نَجاست کو دیکھے جو اس کے بدن سے نکلی ہے اور دیر تک نہ بیٹھے کہ اس سے بواسیر کا اندیشہ ہے اور پیشاب میں نہ تھوکے، نہ ناک صاف کرے، نہ بلا ضرورت کھنکارے ،نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھے، نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہے۔