| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
حدیث ۱۷: امام احمد و ابو داود و ابن ما جہ ابو سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''دو شخص پاخانہ کو جائیں اور سِتْر کھول کر باتیں کریں ،تو اﷲ اس پر غضب فرماتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۸: صحیح بُخاری و صحیح مسلِم میں عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو قبروں پر گزر فرمایا تو یہ فرمایا: ''کہ ان دونوں کو عذاب ہوتا ہے اور کسی بڑی بات میں ( جس سے بچنا دشوار ہو) مُعَذَّب نہیں ہیں ،ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا''، پھر حضور نے کھجور کی ایک تر شاخ لے کر اس کے دو حصے کیے ،ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا نصب فرمادیا۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ!یہ کیوں کیا؟ فرمایاـ: ''اس امید پر کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں تخفیف (2) ہو۔'' (3)استنجے کے متعلق مسائل
مسئلہ ۱: جب پاخانہ پیشاب کو جائے تو مستحب ہے کہ پاخانہ سے باہَر یہ پڑھ لے۔
بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
پھر بایاں قدم پہلے داخل کرے اور نکلتے وقت پہلے داہنا پاؤں باہر نکالے اور نکل کر
غُفْرَانَکَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ مَا یؤْذِینیْ وَاَمْسَکَ عَلَیَّ مَا یَنْفَعُنِیْ
کہے۔ (4)
مسئلہ ۲: پاخانہ یا پیشاب پھرتے وقت یا طہارت کرنے میں نہ قِبلہ کی طرف مونھ ہو نہ پیٹھ اور یہ حکم عام ہے چاہے مکان کے اندر ہو، یا میدان میں اور اگر بھول کر قِبلہ کی طرف مونھ یا پُشت کر کے بیٹھ گیا ،تو یاد آتے ہی فوراً رُخ بدل دے اس میں امید ہے کہ فوراً اس کے لیے مغفرت فرمادی جائے۔ (5)
مسئلہ ۳: بچّے کو پاخانہ پیشاب پھرانے والے کو مکروہ ہے کہ اس بچّے کا مونھ قِبلہ کو ہو یہ پھرانے والا گنہگار ہوگا۔ (6)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب کراھیۃ الکلام عندالحاجۃ ، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۴۰. 2۔۔۔۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ قبروں پر پھول ڈالنا جائز ہے کہ یہ بھی باعث تخفیف عذاب ہیں جب تک خشک نہ ہوں نیز ان کی تسبیح سے میت کا دل بہلتا ہے۔ ۱۲ منہ 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوئ، الحدیث: ۲۱۸، ج۱، ص ۹۶. 4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبرائ... إلخ، ج۱، ص۶۱۵. 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبرائ... إلخ، ج۱، ص۶۰۸. و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الفصل الثالث في الاستنجاء، ج۱، ص۵۰. 6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۱۰.