Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
407 - 432
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب مایقول عند الخلاء، الحدیث: ۱۴۲، ج۱، ص۷۳. 

ترجمہ: اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں پلیدی اورشیاطین سے۔ 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلا ۃ، باب ما ذکر من التسمیۃ عند دخول الخلاء، الحدیث: ۶۰۶، ج۲، ص۱۱۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب مایقول إذا خرج من الخلاء، الحدیث: ۷، ج۱، ص۸۷.

ترجمہ: اﷲ عزوجل سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب مایقول إذا خرج من الخلاء، الحدیث: ۳۰۱، ج۱، ص۱۹۳.

ترجمہ: حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے اذیت کی چیز مجھ سے دور کر دی اور مجھے عافیت دی۔ 

5۔۔۔۔۔۔ ''الحصن الحصین '' 

ترجمہ: حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے میرے شکم سے وہ چیز نکال دی جو مجھے ضرر دیتی اور وہ چیز باقی رکھی جو مجھے نفع دے گی۔ 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب النھی عن الاستنجاء بالیمین، الحدیث: ۱۵۳،۱۴۴، ج۱، ص۷۶،۷۴.
جاتے، انگوٹھی اُتار لیتے (1) ،کہ اس میں نام مبارک کندہ تھا۔ 

    حدیث ۱۰: ابو داود و تِرمذی نے انھیں سے روایت کی، جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو کپڑا نہ ہٹاتے تاوقتیکہ زمین سے قریب نہ ہوجائیں۔ (2) 

    حدیث ۱۱: ابو داود جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور جب قضائے حاجت کو تشریف لے جاتے، تو اتنی دور جاتے کہ کوئی نہ دیکھے۔ (3) 

    حدیث ۱۲: حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے تِرمذی و نَسائی نے روایت کی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''گوبر اور ہڈیوں سے استنجا نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں جنّ کی خوراک ہے۔'' (4) اور ابو داود کی ایک روایت میں کوئلے سے بھی ممانعت فرمائی۔ (5) 

    حدیث ۱۳: ابو داود و تِرمذی و نَسائی عبداﷲ بن مُغفِّل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی غُسل خانہ میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے کہ اکثر وسوسے اس سے ہوتے ہیں۔'' (6) 

    حدیث ۱۴: ابو داود و نَسائی عبداﷲ بن سَرجِس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے ممانعت فرمائی۔ (7) 

    حدیث ۱۵: ابو داود و ابن ما جہ معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور نے فرمایا :'' تین چیزیں جو سببِ لعنت ہیں، ان سے بچو: گھاٹ پر اور بیچ راستہ اور درخت کے سایہ میں پیشاب کرنا۔'' (8) 

    حدیث ۱۶: امام احمد و تِرمذی و نَسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، فرماتی ہیں جو شخص تم سے یہ کہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہو کرپیشاب کرتے تھے تو تم اسے سچّانہ جانو، حضور نہیں پیشاب فرماتے مگر بیٹھ کر۔ (9)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أ بواب اللباس... إلخ، باب ماجاء في لبس الخاتم...إلخ، الحدیث: ۱۷۵۲، ج۳، ص۲۸۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أ بواب الطھارۃ، باب ماجاء في الاستتار عند الحاجۃ، الحدیث: ۱۴، ج۱، ص۹۲. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب التخلي عند قضاء الحاجۃ، الحدیث: ۲، ج۱، ص۳۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء فيکراھیۃ مایستنجي بہ، الحدیث: ۱۸، ج۱، ص۹۶. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب ما ینھی عنہ أ ن یستنجي بہ، الحدیث: ۳۹، ج۱، ص۴۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في البول في المستحم، الحدیث: ۲۷، ج۱، ص۴۴. 

7۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب النھي عن البول في الجحر، الحدیث: ۲۹، ج۱، ص۴۴. 

8۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب المواضع التي نھی عن البول فیھا، الحدیث: ۲۶، ج۱، ص۴۳. 

9۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء في النھی عن البول قائما، الحدیث: ۱۲، ج۱، ص۹۰.
Flag Counter