Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
405 - 432
    مسئلہ ۶۶: کسی دوسرے مسلمان کے کپڑے میں نَجاست لگی دیکھی اور غالب گمان ہے کہ اس کو خبر کریگا تو پاک کر لے گا تو خبر کرنا واجب ہے۔ (1) 

    مسئلہ ۶۷: فاسقوں کے استعمالی کپڑے جن کا نجس ہونا معلوم نہ ہو پاک سمجھے جائیں گے مگر بے نمازی کے پاجامے وغیرہ میں اِحْتِیاط یہی ہے کہ رومالی پاک کرلی جائے کہ اکثر بے نمازی پیشاب کر کے ویسے ہی پاجامہ باندھ لیتے ہیں اور کفّار کے ان کپڑوں کے پاک کر لینے میں تو بہت خیال کرنا چاہیے۔
استنجے کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ  ) ـ2ـ
    اس مسجد یعنی مسجد قبا شریف میں ایسے لوگ ہیں جو پاک ہونے کو پسند رکھتے ہیں اور اﷲ دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔

    حدیث ۱: سُنَن ابنِ ماجہ میں ابو ایوب و جابر و اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی، کہ جب یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''اے گروہِ انصار! اﷲ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی، توبتاؤ تمہاری طہارت کیا ہے۔'' عرض کی نماز کے لیے ہم وُضو کرتے ہیں اور جنابت سے غُسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، فرمایا: ''تو وہ یہی ہے اس کا التزام رکھو۔'' (3) 

    حدیث ۲: ابو داود و ابن ما جہ زَید بن اَرقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''یہ پاخانے جِنّ اور شیاطین کے حاضر رہنے کی جگہ ہے توجب کوئی بیت الخلا کوجائے یہ پڑھ لے۔''
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس،فصل الاستنجاء، ج۱،ص۶۲۲. 

2۔۔۔۔۔۔ پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۸. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب الاستنجاء بالماء، الحدیث: ۳۵۵، ج۱، ص۲۲۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أ بي داود''، کتاب الطھارۃ، باب مایقول الرجل إذا دخل الخلاء، الحدیث: ۶، ج۱، ص۳۶.
Flag Counter