یہی طریقے ہیں اور اگر گھی جما ہو،اسے پگھلا کر انھیں طریقوں میں سے کسی طریقہ پر پاک کریں اور ایک طریقہ ان چیزوں کے پاک کرنے کا یہ بھی ہے کہ پرنالے کے نیچے کوئی برتن رکھیں اور چھت پر سے اسی جنس کی پاک چیز یا پانی کے ساتھ اس طرح ملا کر بہائیں کہ پرنالے سے دونوں دھاریں ایک ہو کر گریں سب پاک ہو جائے گا یا اسی جنس یا پانی سے اُبال لیں پاک ہو جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۶۰: جا نماز میں ہاتھ، پاؤں، پیشانی اور ناک رکھنے کی جگہ کا نماز پڑھنے میں پاک ہونا ضروری ہے، باقی جگہ اگر نَجاست ہو نماز میں حَرَج نہیں، ہاں نماز میں نَجاست کے قرب سے بچنا چاہیے۔
مسئلہ ۶۱: کسی کپڑے میں نَجاست لگی اور وہ نَجاست اسی طرف رہ گئی ،دوسری جانب اس نے اثر نہیں کیا تو اس کو لوٹ کر دوسری طرف جدھر نَجاست نہیں لگی ہے نماز نہیں پڑھ سکتے اگرچہ کتنا ہی موٹا ہو مگر جب کہ وہ نَجاست مَواضِعِ سجود سے الگ ہو۔ (2)
مسئلہ ۶۲: جو کپڑادو تہ کا ہواگر ایک تہ اس کی نجس ہو جائے توا گر دونوں ملا کر سی لیے گئے ہوں، تو دوسری تہ پر نماز جائز نہیں اور اگر سلے نہ ہوں تو جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۶۳: لکڑی کا تختہ ایک رُخ سے نجس ہو گیا تو اگر اتنا موٹا ہے کہ موٹائی میں چِر سکے، تو لوٹ کر اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۶۴: جو زمین گوبر سے لیسی گئی اگرچہ سُوکھ گئی ہو اس پر نماز جائز نہیں، ہاں اگر وہ سُوکھ گئی اور اس پر کوئی موٹا کپڑا بچھالیا، تو اس کپڑے پر نماز پڑھ سکتے ہیں اگرچہ کپڑے میں تری ہو مگر اتنی تری نہ ہو کہ زمین بھیگ کر اس کو تر کردے کہ اس صورت میں یہ کپڑا نجس ہو جائے گا اور نما ز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۶۵: آنکھوں میں ناپاک سرمہ یا کاجل لگایا اور پھیل گیا تو دھونا واجب ہے اور اگر آنکھوں کے اندر ہی ہو باہر نہ لگا ہو تو معاف ہے۔