Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
403 - 432
ہوتا ہے، بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور انکسار پیدا ہوتا ہے، کتّے کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو یا وہ ذبح کر لیا گیا ہو استعمال میں نہ لانا چاہیے کہ آئمہ کے اختلاف اور عوام کی نفرت سے بچنا مناسب ہے۔ 

    مسئلہ ۵۴: روئی کا اگر اتنا حصہ نجس ہے جس قدر دُھننے سے اُڑ جانے کا گمانِ صحیح ہو تو دُھننے سے پاک ہو جائے گی ورنہ بغیر دھوئے پاک نہ ہو گی، ہاں اگر معلوم نہ ہو کہ کتنی نجس ہے تو بھی دھننے سے پاک ہو جائے گی۔ 

    مسئلہ ۵۵: غلّہ جب پَیر (1) میں ہو اور اس کی مالش کے وقت بیلوں نے اس پر پیشاب کیا ،تو اگر چند شریکوں میں تقسیم ہوا یا اس میں سے مزدوری دی گئی یا خیرات کی گئی تو سب پاک ہو گیا اور اگر کُل بجنسہٖ موجود ہے تو ناپاک ہے، اگر اس میں سے اس قدر جس میں احتمال ہو سکے کہ اس سے زِیادہ نجس نہ ہو گا دھوکر پاک کر لیں تو  سب پاک ہو جائے گا۔ 

    مسئلہ ۵۶: رانگ، سیسہ پگھلانے سے پاک ہو جاتا ہے۔ 

    مسئلہ ۵۷: جمے ہوئے گھی میں چوہا گِر کر مر گیا تو چوہے کے آس پاس سے نکال ڈالیں،باقی پاک ہے کھا سکتے ہیں اور اگر پتلا ہے تو سب ناپاک ہو گیا اس کا کھانا جائز نہیں، البتہ اس کام میں لا سکتے ہیں جس میں استعمالِ نَجاست ممنوع نہ ہو، تیل کا بھی یہی حکم ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۵۸: شہد ناپاک ہو جائے تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس سے زِیادہ اس میں پانی ڈال کر اتنا جوش دیں کہ جتنا تھا اتنا ہی ہو جائے،تین مرتبہ یوہیں کریں پاک ہو جائے گا۔ (3) 

    مسئلہ ۵۹: ناپاک تیل کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اتنا ہی پانی اس میں ڈال کر خوب ہلائیں، پھر اوپر سے تیل نکال لیں اور پانی پھینک دیں، یوہیں تین بار کریں یا اس برتن میں نیچے سوراخ کر دیں کہ پانی بہ جائے اور تیل رہ جائے،یوں بھی تین مرتبہ میں پاک ہو جائے گا یا یوں کریں کہ اتنا ہی پانی ڈال کر اس تیل کو پکائیں یہاں تک کہ پانی جل جائے اور تیل رہ جائے ایسا ہی تین دفعہ میں پاک ہو جائے گا اور یوں بھی کہ پاک تیل یا پانی دوسرے برتن میں رکھ کر اس ناپاک اور اس پاک دونوں کی دھارملا کر اوپر سے گرائیں مگرا س میں یہ ضرور خیال رکھیں کہ ناپاک کی دھار اس کی دھار سے کسی وقت جدا نہ ہو، نہ اس برتن میں کوئی قطرہ ناپاک کا پہلے سے پہنچا ہو نہ بعد کوورنہ پھر ناپاک ہو جائے گا، بہتی ہوئی عام چیزیں، گھی وغیرہ کے پاک کرنے کے بھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ یعنی اناج صاف کرنے کی جگہ۔ 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
Flag Counter