Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
399 - 432
یہ دوبار دھویا جائے اور اگر دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد اس سے وہ کپڑا بھیگا تو ایک بار دھونے سے پاک ہو جائے گا۔ 

    مسئلہ ۲۱: کپڑے کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا ہے کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا، پھر اس کو لٹکا دیا اور اس سے پانی ٹپکا تو یہ پانی پاک ہے اور اگر خوب نہیں نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے۔ 

    مسئلہ ۲۲: دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے کہ ان کا پیشاب کپڑے یا بدن میں لگا ہے، تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا۔ 

    مسئلہ ۲۳: جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعدسُوکھانا ضروری نہیں۔ یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔ (1) 

    مسئلہ ۲۴: اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی ،جیسے چینی کے برتن،یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یالوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (2) 

    مسئلہ ۲۵: ناپاک برتن کو مٹی سے مانجھ لینا بہتر ہے۔ 

    مسئلہ ۲۶: پکایا ہوا چمڑا ناپاک ہو گیا، تو اگر اسے نچوڑ سکتے ہیں تو نچوڑ یں ورنہ تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (3) 

    مسئلہ ۲۷: دَری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہالے گیا پاک ہو گیا، کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔ 

    مسئلہ ۲۸: کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو گیا اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے، تو بہتر یہی ہے کہ پورا ہی دھو ڈالیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۴۱۳. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۴۱۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۳.
Flag Counter