Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
398 - 432
سے اگر کپڑا رنگ لیا تو تین بار دھو ڈالیں پاک ہو جائے گا۔ 

    مسئلہ ۱۵: گُود ناکہ سوئی چبھو کر اس جگہ سرمہ بھر دیتے ہیں ،تو اگر خون اتنا نکلا کہ بہنے کے قابل ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خون ناپاک ہے اور سُرمہ کہ اس پر ڈالا گیا وہ بھی ناپاک ہو گیا ،پھر اس جگہ کو دھو ڈالیں پاک ہو جائے گی اگرچہ ناپاک سُرمہ کا رنگ بھی باقی رہے۔ یوہیں زخم میں راکھ بھر دی، پھر دھو لیا پاک ہوگیا اگرچہ رنگ باقی ہو۔ 

    مسئلہ ۱۶: کپڑے یا بدن میں ناپاک تیل لگا تھا ،تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا (1) اگرچہ تیل کی چکنائی موجود ہو، اس تکلّف کی ضرورت نہیں کہ صابون یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مردار کی چربی لگی تھی، تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہوگا۔ 

    مسئلہ ۱۷: اگر نَجاست رقیق ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے ،اگر کپڑے کا خیال کر کے اچھی طرح نہیں نچوڑا تو پاک نہ ہوگا۔ (2) 

    مسئلہ ۱۸: اگر دھونے والے نے اچھی طرح نچوڑ لیا مگر ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زِیادہ ہے نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے، تو اس کے حق میں پاک اور دوسرے کے حق میں ناپاک ہے۔ اس دوسرے کی طاقت کا اعتبار نہیں ،ہاں اگر یہ دھوتا اور اسی قدر نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا۔ (3) 

    مسئلہ ۱۹: پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کر لینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی اور جو کپڑے میں اتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بوند ٹپکے گی تو کپڑا اور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں۔ (4) 

    مسئلہ ۲۰: پہلی یا دوسری بار ہاتھ پاک نہیں کیا اور اس کی تری سے کپڑے کا پاک حصہ بھیگ گیا تو یہ بھی ناپاک ہوگیا، پھر اگر پہلی بار کے نچوڑنے کے بعد بھیگا ہے تو اسے دو مرتبہ دھونا چاہیے اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ کی تری سے بھیگاہے تو ایک مرتبہ دھویا جائے۔ یوہیں اگر اس کپڑے سے جو ایک مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا گیا ہے، کوئی پاک کپڑا بھیگ جائے تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في حکم الصبغ... إلخ، ج۱، ص۵۹۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲. 

و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في حکم الوشم، ج۱، ص۵۹۴،وغیرہما. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۹۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
Flag Counter