(یعنی جب بالکل نہ معلوم ہوکہ کس حصہ میں ناپاکی لگی ہے اور اگر معلوم ہے کہ مثلا آستین یا کَلی نجس ہو گئی مگر یہ نہیں معلوم کہ آستین یا کَلی کا کونسا حصہ ہےتو آستین یا کَلی کا دھونا ہی پورے کپڑے کا دھونا ہے) اور اگر انداز سے سوچ کر اس کا کوئی حصہ دھولے جب بھی پاک ہو جائے گا اور جو بلا سوچے ہوئے کوئی ٹکڑا دھولیا جب بھی پاک ہے مگر اس صورت میں اگر چند نمازیں پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نجس حصہ نہیں دھو یا گیا تو پھر دھوئے اور نمازوں کا اعادہ کرے اور جو سوچ کر دھو لیا تھااور بعد کو غلطی معلوم ہوئی تواب دھولے اور نمازوں کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۲۹: یہ ضروری نہیں کہ ایک دم تینوں بار دھوئیں، بلکہ اگر مختلف وقتوں بلکہ مختلف دنوں میں یہ تعداد پوری کی جب بھی پاک ہو جائے گا۔ (2)
مسئلہ ۳۰: لوہے کی چیز جیسے چُھری، چاقو، تلوار وغیرہ جس میں نہ زنگ ہونہ نقش و نگار نجس ہو جائے، تو اچھی طرح پونچھ ڈالنے سے پاک ہو جائے گی اور اس صورت میں نَجاست کے دَلدار یا پتلی ہونے میں کچھ فرق نہیں۔ یوہیں چاندی، سونے، پیتل، گلٹ اور ہر قسم کی دھات کی چیزیں پونچھنے سے پاک ہو جاتی ہیں بشرطیکہ نقشی نہ ہوں اور اگر نقشی ہوں یا لوہے میں زنگ ہو تو دھونا ضروری ہے پونچھنے سے پاک نہ ہوں گی۔ (3)
مسئلہ ۳۱: آئینہ اورشیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں(4) ۔
مسئلہ ۳۲: مَنی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مَل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگرچہ بعد مَلنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے۔ (5)
مسئلہ ۳۳: اس مسئلہ میں عورت و مرد اور انسان و حیوان و تندرست و مریضِ جریان سب کی مَنی کا ایک حکم ہے۔ (6)
مسئلہ ۳۴: بدن میں اگر مَنی لگ جائے تو بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا۔ (7)