مسئلہ ۷: جو چیزیں بذا تہٖ نجس نہیں بلکہ کسی نَجاست کے لگنے سے ناپاک ہوئیں، ان کے پاک کرنے کے مختلف طریقے ہیں پانی اور ہر رقیق بہنے والی چیز سے (جس سے نَجاست دور ہو جائے) دھو کر نجس چیز کو پاک کر سکتے ہیں، مثلاً سرکہ اور گلاب کہ ان سے نَجاست کو دور کر سکتے ہیں تو بدن یا کپڑا ان سے دھو کر پاک کر سکتے ہیں۔
فائدہ: بغیر ضرورت گلاب اور سرکہ وغیرہ سے پاک کرنا ناجائز ہے کہ فضول خرچی ہے۔
مسئلہ ۸: مُستَعمَل پانی اور چائے سے دھوئیں پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ ۹: تھوک سے اگر نَجاست دور ہو جائے پاک ہو جائے گا، جیسے بچے نے دودھ پی کر پِستان پر قے کی، پھر کئی بار دودھ پیا یہاں تک کہ اس کا اثر جاتا رہا پاک ہو گئی (1) اورشرابی کے مونھ کا مسئلہ اوپر گزرا۔
مسئلہ ۱۰: دودھ اور شوربا اور تیل سے دھونے سے پاک نہ ہو گا کہ ان سے نَجاست دور نہ ہو گی۔ (2)
مسئلہ ۱۱: نَجاست اگر دَلدار ہو (جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ) تو دھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے ،اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا(3) ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نَجاست دور ہو جائے تو تین بار پورا کرلینا مستحب ہے۔
مسئلہ ۱۲: اگر نَجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بُو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے، ہاں اگر اس کا اثر بدقّت جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھولیا پاک ہو گیا،صابون یا کھٹائی یا گرم پانی سے دھونے کی حاجت نہیں۔ (4)
مسئلہ ۱۳: کپڑے یا ہاتھ میں نجس رنگ لگا ،یا ناپاک مہندی لگائی تو اتنی مرتبہ دھوئیں کہ صاف پانی گرنے لگے، پاک ہو جائے گا اگرچہ کپڑے یاہاتھ پر رنگ باقی ہو۔ (5)
مسئلہ ۱۴: زعفران یا رنگ ،کپڑا رنگنے کے لیے گھولا تھا اس میں کسی بچے نے پیشاب کر دیا یا اَور کوئی نَجاست پڑ گئی اس