Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
396 - 432
نجس چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ
    جو چیزیں ایسی ہیں کہ وہ خود نجس ہیں (جن کو ناپاکی اور نَجاست کہتے ہیں) جیسے شراب یا غلیظ، ایسی چیزیں جب تک اپنی اصل کو چھوڑ کر کچھ اور نہ ہوجائیں پاک نہیں ہو سکتیں،شراب جب تک شراب ہے نجس ہی رہے گی اور سرکہ ہو جائے تو اب پاک ہے۔ 

    مسئلہ ۱: جس برتن میں شراب تھی اور سرکہ ہو گئی وہ برتن بھی اندر سے اتنا پاک ہو گیا جہاں تک اس وقت سرکہ ہے، اگر اُوپر شراب کی چھینٹیں پڑی تھیں ،تو وہ شراب کے سرکہ ہونے سے پاک نہ ہوگی۔ یوہیں اگر شراب مثلاً مونھ تک بھری تھی، پھر کچھ گِر گئی کہ برتن تھوڑا خالی ہو گیا اس کے بعد سرکہ ہوئی تو یہ اوپر کا حصہ جو پہلے ناپاک ہو چکا تھا پاک نہ ہو گا۔ اگر سرکہ اس سے انڈیلا جائے گاتو وہ سرکہ بھی ناپاک ہو جائے گا، ہاں اگر پلی (1) وغیرہ سے نکال لیا جائے تو پاک ہے اور پیاز، لہسن شراب میں پڑ گئے تھے سرکہ ہونے کے بعد پاک ہو گئے

    مسئلہ ۲: شراب میں چوہا گِر کر پھول پَھٹ گیا تو سرکہ ہونے کے بعد بھی پاک نہ ہوگا اور اگر پھولا پھٹا نہیں تھا تو اگر سرکہ ہونے سے پہلے نکال کر پھینک دیا اس کے بعد سرکہ ہوئی تو پاک ہے اور اگر سرکہ ہونے کے بعد نکال کر پھینکا تو سرکہ بھی ناپاک ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۳: شراب میں پیشاب کا قطرہ گِر گیا یا کُتّے نے مونھ ڈال دیا یا ناپاک سرکہ ملا دیا تو سرکہ ہونے کے بعد بھی حرام و نجس ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۴: شراب کو خریدنا یا منگانا یا اُٹھانا یا رکھنا حرام ہے اگرچہ سرکہ کرنے کی نیت سے ہو۔ 

    مسئلہ ۵: نجس جانور نمک کی کان میں گِر کر نمک ہو گیا تو وہ نمک پاک و حلال ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۶: اُپلے کی راکھ پاک ہے(5) اور اگر راکھ ہونے سے قبل بُجھ گیا تو ناپاک۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ یعنی ٹیڑھا چمچہ تیل یا گھی نکالنے کا آلہ۔

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۵.         3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
Flag Counter