Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
395 - 432
اور خود ناخن گر جائے تو ناپاک نہیں۔ (1) 

    مسئلہ ۴۸: بعد پاخانہ پیشاب کے ڈھیلوں سے استنجا کر لیا، پھر اس جگہ سے پسینہ نکل کر کپڑے یا بدن میں لگا تو بدن اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے۔ (2) 

    مسئلہ ۴۹: پاک مٹی میں ناپاک پانی مِلایا تو نجس ہو گئی۔ (3) 

    مسئلہ۵۰: مٹی میں ناپاک بُھس ملایا ،اگر تھوڑا ہو تو مطلقاً پاک ہے اور جو زِیادہ ہو تو جب تک خشک نہ ہو، ناپاک ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۵۱: کُتّا بدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگرچہ اس کا جِسْم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب لگے تو ناپاک کر دے گا۔ (5) 

    مسئلہ ۵۲: کُتّے وغیرہ کسی ایسے جانور نے جس کا لُعاب ناپاک ہے آٹے میں مونھ ڈالا،تو اگر گُندھا ہوا تھا توجہاں اس کا مونھ پڑا، اس کو علیحدہ کردے باقی پاک ہے اور سُوکھا تھا تو جتنا تر ہو گیا وہ پھینک دے۔ 

    مسئلہ ۵۳: آبِ مُستَعمَل پاک ہے نوشا در پاک ہے۔ (6) 

    مسئلہ ۵۴: سوا سوئر کے تمام جانوروں کی وہ ہڈّی جس پر مردار کی چکنائی نہ لگی ہو اور بال اور دانت پاک ہیں۔ (7) 

    مسئلہ ۵۵: عورت کے پیشاب کے مقام سے جو رطوبت نکلے پاک ہے۔(8) کپڑے یا بدن میں لگے تو دھونا کچھ ضرور نہیں ہاں بہتر ہے۔ 

    مسئلہ ۵۶: جو گوشت سَڑ گیا، بدبُو لے آیا اس کا کھانا حرام ہے اگرچہ نجس نہیں۔ (9)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''منیۃ المصلي''، بیان النجاسۃ، ص۱۰۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الفصل الثاني،ص۴۷.             4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۴۰۱. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، ج۱، ص۴۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''نور الإیضاح''، کتاب الطہارۃ، ص۳، و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في العرقیّ الذی 

یستقطر من دردی الخمر نجس حرام بخلاف النوشادر، ج۱، ص۵۸۴. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۹۹. و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۴۷۱. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۶۶. 

9۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۲۰.
Flag Counter