Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
394 - 432
    مسئلہ ۳۷: جس جگہ کو گوبر سے لیسا اور وہ سُوکھ گئی بھیگا کپڑا اس پر رکھنے سے نجس نہ ہو گا، جب تک کپڑے کی تری اسے اتنی نہ پہنچے کہ اس سے چھوٹ کر کپڑے کو لگے۔ (1) 

    مسئلہ ۳۸: نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا،اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔ (2) 

    مسئلہ ۳۹: ناپاک چیز پر ہوا ہو کر گزری اور بدن یا کپڑے کو لگی تو ناپاک نہ ہوگا۔ (3) 

    مسئلہ ۴۰: میانی تر تھی اور ہوا نکلی تو کپڑا نجس نہ ہوگا۔ (4) 

    مسئلہ ۴۱: ناپاک چیز کا دھواں کپڑے یا بدن کو لگے تو ناپاک نہیں۔ یوہیں ناپاک چیز کے جلانے سے جو بخارات اُٹھیں ان سے بھی نجس نہ ہو گا اگرچہ ان سے پورا کپڑا بھیگ جائے ،ہاں اگر نجاست کا اثر اس میں ظاہر ہو تو نجس ہو جائے گا۔ (5) 

    مسئلہ ۴۲: اُپلے کا دُھواں روٹی میں لگا تو روٹی ناپاک نہ ہوئی۔ 

    مسئلہ ۴۳: کوئی نجس چیز دَہ در دَہ پانی میں پھینکی اور اس پھینکنے کی وجہ سے پانی کی چھینٹیں کپڑے پر پڑیں کپڑا نجس نہ ہو گا، ہاں اگر معلوم ہو کہ یہ چھینٹیں اس نجس شے کی ہیں تو اس صورت میں نجس ہو جائے گا۔ (6) 

    مسئلہ ۴۴: پاخانہ پر سے مکھیاں اُڑ کر کپڑے پر بیٹھیں کپڑا نجس نہ ہوگا۔ (7) 

    مسئلہ ۴۵: راستہ کی کیچڑ پاک ہے جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو، تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی ہو گئی مگر دھو لینا بہتر ہے۔ (8) 

    مسئلہ ۴۶: سڑک پر پانی چِھڑکا جارہا تھا، زمین سے چھینٹیں اُڑ کر کپڑے پر پڑیں، کپڑا نجس نہ ہوا مگر دھولینا بہتر ہے۔ 

    مسئلہ ۴۷: آدمی کی کھال اگرچہ ناخن برابر تھوڑے پانی (یعنی دَہ در دَہ سے کم) میں پڑ جائے، وہ پانی ناپاک ہوگیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.         3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.         5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷. 

7۔۔۔۔۔۔ ''المحیط البرہاني''، کتاب الطہارات، الفصل السابع في النجاسات وأحکامہا، ج۱، ص۲۱۶. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في العفو عن طین الشارع، ج۱، ص۵۸۳.
Flag Counter