گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔ (1)
مسئلہ ۱۲: معذور نے کسی حدث کے بعد وُضو کیا اور وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں ہے جس کے سبب معذور ہے، پھر وُضو کے بعد وہ عذر والی چیز پائی گئی تو وُضو جاتا رہا، جیسے اِستحاضہ والی نے پاخانہ پیشاب کے بعد وُضو کیا اور وُضو کرتے وقت خون بند تھا بعد وُضو کے آیا تو وُضو ٹوٹ گیا (2) اور اگر وُضو کرتے وقت وہ عذر والی چیز بھی پائی جاتی تھی تو اب وُضو کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۱۳: معذور کے ایک نتھنے سے خون آرہا تھا وُضو کے بعد دوسرے نتھنے سے آیا وُضو جاتا رہا ،یا ایک زخم بہ رہا تھا اب دوسرا بہا، یہاں تک کہ چیچک کے ایک دانہ سے پانی آرہا تھا اب دوسرے دانہ سے آیا وُضو ٹوٹ گیا۔ (3)
مسئلہ ۱۴: اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہو کر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۵: معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۶: اِستحاضہ والی اگر غُسل کرکے ظہر کی نماز آخر وقت میں اورعصر کی وُضو کرکے اول وقت میں اور مغرب کی غُسل کرکے آخر وقت میں اور عشاء کی وُضو کرکے اوّل وقت میں پڑھے اور فجر کی بھی غُسل کرکے پڑھے تو بہتر ہے اور عجب نہیں کہ یہ ادب جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی رعایت کی برکت سے اس کے مرض کو بھی فا ئدہ پہنچے۔
مسئلہ ۱۷: کسی زخم سے ایسی رطوبت نکلے کہ بہے نہیں، تو نہ اس کی وجہ سے وُضو ٹوٹے ،نہ معذور ہو، نہ وہ رطوبت ناپاک۔ (6)