اسی اِستحاضہ یا بیماری میں گزر گیا تو وہ پہلی بھی ہو گئی اور اگر اس وقت اتنا موقع ملاکہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے تو پہلی نماز کا اعادہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۷: خون بہتے میں وُضو کیا اور وضوکے بعد خون بند ہو گیا اور اسی وُضو سے نماز پڑھی اور اس کے بعد جو دوسرا وقت آیا وہ بھی پورا گزر گیاکہ خون نہ آیا تو پہلی نماز کا اعادہ کرے ۔ یوہیں اگر نماز میں بند ہوا اور اس کے بعد دوسرے میں بالکل نہ آیا جب بھی اعادہ کرے۔ (2)
مسئلہ ۸: فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عصر کے وقت وُضو کیا تھاتو آفتاب کے ڈوبتے ہی وُضو جاتارہااور اگر کسی نے آفتاب نکلنے کے بعد وُضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت ختم نہ ہو وُضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔ (3)
مسئلہ ۹: وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں پائی گئی جس کے سبب معذور ہے اور وُضو کے بعد بھی نہ پائی گئی یہاں تک کہ باقی پورا وقت نماز کا خالی گیا تو وقت کے جانے سے وُضو نہیں ٹوٹا۔ یوہیں اگر وُضو سے پیشتر پائی گئی مگر نہ وُضو کے بعد باقی وقت میں پائی گئی نہ اس کے بعد دوسرے وقت میں تو وقت (4) جانے سے وضونہ ٹوٹے گا۔
مسئلہ ۱۰: اور اگر اس وقت میں وُضو سے پیشتر وہ چیز پائی گئی اور وُضو کے بعد بھی وقت میں پائی گئی یا وُضو کے اندر پائی گئی اور وُضو کے بعد اس وقت میں نہ پائی گئی مگر بعد والے میں پائی گئی، تو وقت ختم ہونے پر وُضو جاتا رہے گا اگرچہ وہ حدث نہ پایا جائے۔
مسئلہ ۱۱: معذورکا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے،ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی