Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
373 - 432
    مسئلہ ۷: نو برس کی عمر سے پیشتر جو خون آئے اِستحاضہ ہے۔ یوہیں پچپن سال کی عمر کے بعد جو خون آئے۔(1) ہاں پچھلی صورت میں اگر خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اسی رنگ کا آیا تو حَیض ہے۔ 

    مسئلہ ۸: حمل والی کو جو خون آیا اِستحاضہ ہے۔ یوہیں بچہ ہوتے وقت جو خون آیااور ابھی آدھے سے زِیادہ بچہ باہر نہیں نکلا وہ اِستحاضہ ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۹: دو حَیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضرور ہے۔ یوہیں نِفاس و حَیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نِفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ اِستحاضہ ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۱۰: حَیض اس وقت سے شمار کیا جائے گا کہ خون فرجِ خارِج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے فرجِ خارِج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا ہوا ہے تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حَیض والی نہ ہو گی۔ نمازیں پڑھے گی، روزہ رکھے گی۔ (4) 

    مسئلہ ۱۱: حَیض کے چھ رنگ ہیں۔ (۱) سیاہ (۲) سرخ (۳) سبز (۴) زرد (۵) گدلا (۶) مٹیلا۔(5) سفید رنگ کی رطوبت حَیض نہیں۔ 

    مسئلہ ۱۲: دس دن کے اندر رطوبت میں ذرا بھی میلا پن ہے تووہ حَیض ہے اور دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لیے جو دن عادت کے ہیں حَیض ہے اور عادت سے بعد والے اِستحاضہ اور اگرکچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حَیض باقی اِستحاضہ۔ (6) 

    مسئلہ ۱۳: گدّی جب تر تھی تو اس میں زردی یا میلا پن تھا بعد سُوکھ جانے کے سفید ہو گئی تو مدت حَیض میں حَیض ہی ہے اور اگر جب دیکھا تھا سفید تھی سُوکھ کر زرد ہوگئی تو یہ حَیض نہیں۔ (7) 

    مسئلہ ۱۴: جس عورت کو پہلی مرتبہ خون آیا اور اس کا سلسلہ مہینوں یا برسوں برابر جاری رہاکہ بیچ میں پندرہ دن کے لیے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۷، وغیرہ.

7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۶.
Flag Counter