Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
374 - 432
بھی نہ رُکا، تو جس دن سے خون آنا شروع ہوااس روز سے دس دن تک حَیض اور بیس دن اِستحاضہ کے سمجھے اور جب تک خون جاری رہے یہی قاعدہ برتے۔ (1) 

    مسئلہ ۱۵: اور اگر اس سے پیشتر حَیض آچکا ہے تو اس سے پہلے جتنے دن حَیض کے تھے ہر تیس دن میں اتنے دن حَیض کے سمجھے باقی جو دن بچیں اِستحاضہ۔ 

    مسئلہ ۱۶: جس عورت کو عمر بھر خون آیا ہی نہیں یا آیا مگر تین دن سے کم آیا، تو عمر بھر وہ پاک ہی رہی اور اگر ایک بار تین دن رات خون آیا، پھر کبھی نہ آیا تووہ فقط تین دن رات حَیض کے ہیں باقی ہمیشہ کے لیے پاک۔ (2) 

    مسئلہ ۱۷: جس عورت کو دس دن خون آیا اس کے بعد سال بھرتک پاک رہی پھر برابر خون جاری رہا تووہ اس زمانہ میں نماز، روزے کے لیے ہر مہینہ میں دس دن حَیض کے سمجھے بیس دن اِستحاضہ۔ (3) 

    مسئلہ ۱۸: کسی عورت کو ایک بار حَیض آیا، اس کے بعد کم سے کم پندرہ دن تک پاک رہی، پھر خون برابر جاری رہا اور یہ یاد نہیں کہ پہلے کتنے دن حَیض کے تھے اور کتنے طہر کے مگر یہ یاد ہے کہ مہینے میں ایک ہی مرتبہ حَیض آیا تھا ،تو اس مرتبہ جب سے خون شروع ہوا تین دن تک نماز چھوڑ دے ،پھر سات دن تک ہر نماز کے وقت میں غُسل کرے اور نماز پڑھے اور ان دسوں دن میں شوہر کے پاس نہ جائے، پھر بیس دن تک ہر نمازکے وقت تازہ وُضو کرکے نماز پڑھے اور دوسرے مہینہ میں اُنیس دن وُضو کرکے نماز پڑھے اور ان بیس یا ان اُنیس دن میں شوہر اس کے پاس جا سکتا ہے اور جو یہ بھی یاد نہ ہو کہ مہینے میں ایک بار آیا تھا یا دو بار، تو شروع کے تین دن میں نماز نہ پڑھے، پھر سات دن تک ہر وقت میں غُسل کر کے نماز پڑھے، پھر آٹھ دن تک ہر وقت میں وُضو کرکے نماز پڑھے اور صرف ان آٹھ دنوں میں شوہر اس کے پاس جاسکتا ہے اور ان آٹھ دن کے بعد بھی تین دن تک ہروقت میں وضوکرکے نماز پڑھے، پھر سات دن تک غُسل کر کے اور اس کے بعد آٹھ دن تک وُضو کر کے نماز پڑھے اور یہی سلسلہ ہمیشہ جاری ر کھے ۔

    اور اگر طہارت کے دن یاد ہیں ،مثلاً پندرہ دن تھے اور باقی کوئی بات یاد نہیں تو شروع کے تین دن تک نمازنہ پڑھے،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مبحث في مسائل المتحیرۃ، ج۱، ص۵۲۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''رد المحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، با ب الحیض، ج۱، ص۵۲۵.
Flag Counter