مسئلہ ۲: حَیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں یعنی پورے ۷۲ گھنٹے، ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حَیض نہیں اور زِیادہ سے زِیادہ دس دن دس راتیں ہیں۔ (1)
مسئلہ ۳: ۷۲ گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہو جائے تو حَیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے ہاں اگر کرن چمکی تھی کہ شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حَیض ہے اگرچہ دن بڑھنے کے زمانہ میں طلوع روز بروز پہلے اور غروب بعد کو ہوتا رہے گا اور دن چھوٹے ہونے کے زمانہ میں آفتاب کا نکلنا بعد کو اور ڈوبنا پہلے ہوتا رہے گا جس کی وجہ سے ان تین دن رات کی مقدار ۷۲ گھنٹے ہونا ضرور نہیں مگر عین طلوع سے طلوع اور غروب سے غروب تک ضرور ایک دن رات ہے ان کے ماسوا اگر اَور کسی وقت شروع ہوا تو وہی ۲۴ گھنٹے پورے کاایک دن رات لیا جائے گا، مثلاً آج صبح کو ٹھیک نو بجے شروع ہوا اور اس وقت پورا پہردن چڑھا تھا تو کل ٹھیک نو بجے ایک دن رات ہو گا اگرچہ ابھی پورا پہربھردن نہ آیا، جب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے بعد ہو، یا پہر بھر سے زِیادہ دن آگیا ہوجب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے پہلے ہو۔
مسئلہ ۴: دس رات دن سے کچھ بھی زِیادہ خون آیا تو اگر یہ حَیض پہلی مرتبہ اسے آیاہے تو دس دن تک حَیض ہے بعد کا اِستحاضہ اور اگر پہلے اُسے حَیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زِیادہ ہو اِستحاضہ ہے۔ اسے یوں سمجھو کہ اس کو پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حَیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حَیض کے باقی سات دن اِستحاضہ کے اور ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن تو پچھلی بار جتنے دن تھے وہی اب بھی حَیض کے ہیں باقی اِستحاضہ۔ (2)
مسئلہ ۵: یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جب ہی حَیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے جب بھی حَیض ہے۔ (3)
مسئلہ ۶: کم سے کم نوبرس کی عمر سے حَیض شروع ہو گا اور انتہائی عمر حَیض آنے کی پچپن سال ہے۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ اور اس عمر کو سن ایاس کہتے ہیں۔ (4)