Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
371 - 432
    حدیث ۷: صحیحین میں ام المومنین مَیمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک چادر میں نمازپڑھتے تھے جس کا کچھ حصہ مجھ پر تھا اور کچھ حضور پر اور میں حائض تھی۔ (1) 

    حدیث ۸: تِرمذی و ابنِ ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص حَیض والی سے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جِماع کرے ،یا کاہن کے پاس جائے ،اس نے کُفْران کیا اس چیز کا جو محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر اُتاری گئی۔'' (2) 

    حدیث ۹: رزین کی روایت ہے کہ مُعاذ بن جَبَل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! میری عورت جب حَیض میں ہو تو میرے لیے کیا چیز اس سے حلال ہے؟ فرمایا:'' تہبند (ناف) سے اوپر اور اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔'' (3) 

    حدیث ۱۰: اَصحاب ِسننِ اَربَعہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنی بی بی سے حَیض میں جِماع کرے تو نصف دینار صدقہ کرے۔'' (4) ترمذی کی دوسری روایت انھیں سے یوں ہے کہ فرمایا: ''جب سُرخ خون ہو تو ایک دینار اور جب زرد ہو تو نصف دینار۔'' (5) 

    حَیض کی حکمت :

    عورت بالغہ کے بدن میں فطرۃً ضرورت سے کچھ زِیادہ خون پیدا ہوتا ہے کہ حمل کی حالت میں وہ خون بچے کی غذا میں کام آئے اور بچے کے دودھ پینے کے زمانہ میں وہی خون دودھ ہو جائے اور ایسا نہ ہو تو حمل اور دودھ پلانے کے زمانہ میں اس کی جان پر بن جائے، یہی وجہ ہے کہ حمل اور ابتدائے شیر خوارگی میں خون نہیں آتا اور جس زمانہ میں نہ حمل ہو نہ دودھ پلانا وہ خون اگر بدن سے نہ نکلے تو قِسم قِسم کی بیماریاں ہو جائیں۔
حَیض کے مسائل
    مسئلہ ۱: بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو، اُسے حَیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نِفاس کہتے ہیں۔ (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ '' السنن الکبری'' للبیھقي، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ في الثوب الواحد... إلخ، الحدیث: ۳۲۹۰، ج۲، ص۳۳۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في کراھیۃ إتیان الحائض، الحدیث: ۱۳۵، ج۱، ص ۱۸۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، الفصل الثاني، الحدیث: ۵۵۲، ج ۱، ص ۱۸۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في اتیان الحائض، الحدیث: ۲۶۶، ج۱، ص ۱۲۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في الکفارۃ في ذلک، الحدیث: ۱۳۷، ج۱، ص ۱۸۷. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الأول في الحیض، ج۱، ص۳۶،۳۷،وغیرہ.
Flag Counter